خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 497 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 497

خطابات مریم 497 خطابات دورہ گوجرانوالہ 1987ء محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے مجالس کی عہد یداران کو فر مایا کہ اگر یہ مقصد آپ کے ذہن نشین ہو جائے تو آپ کی طرف سے تساہل کا اظہار نہ ہو۔مرد اور عورت گاڑی کے دو پیسے ہوتے ہیں۔اگر مرد کام کریں اور عور تیں پیچھے رہ جائیں تو یہ گاڑی نہیں چل سکتی۔اور ہم مردوں کے کام میں بھی رکاوٹ کھڑی کرنے والی ہوں گی۔آپ نے فرمایا حضرت اقدس ) مہدی علیہ السلام اس وقت دنیا میں تشریف لائے جب بہت سے عقائد اور بد رسوم نے جنم لے لیا تھا۔جیسے ایک باغ جگہ جگہ جڑی بوٹیوں سے بھر کر اپنا حسن کھو دیتا ہے۔یہی حال اس وقت دنیا کا ہو چکا تھا۔مسلمان خود کو مسلمان کہتے ہوئے شرماتا تھا۔حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے الہا ماً بتایا تھا۔کہ آپ کا کام يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَة ( تذکرہ صفحہ 55) ہے اس مقصد کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور آ کر معاشرہ کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اسلام قبول کر لینا اور ایمان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچنے میں بڑا فرق ہے۔ہمیں اپنے اخلاق سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ہی صحیح مسلمان ہیں۔دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔کام کا موقع ملنا آپ کیلئے کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے۔اس کی قدر کریں۔لجنہ کے قیام کو 65 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔چار خلفاء آپ کی تربیت کر چکے ہیں لیکن مجالس ابھی ابتدائی حالت سے گزر رہی ہوں۔بہت کم رپورٹیں مرکز میں پہنچ رہی ہیں۔ان کی طرف توجہ دیں اور کام میں با قاعدگی اختیار کریں۔پھر حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے حضرت مسیح موعود کا تقویٰ سے متعلق ارشاد پیش کرتے ہوئے فرمایا یہ ایک بہت اہم حوالہ ہے اور آپ کی جماعت سے محبت کو ناپنے کا ایک آلہ ہے۔فرمایا کہ آپ ان لوگوں کو بیدار کریں جن کا اپنے رب کریم سے تعاون کمزور ہو چکا ہے۔خدا