خطابات مریم (جلد دوم) — Page 484
خطابات مریم 484 خطابات خطاب ناصرات الاحمدیہ جرمنی (18 ستمبر 1987ء) اشهد ان لا اله الا الله وحده لاشريك له واشهد ان محمد عبده و رسوله اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم سورۃ فاتحہ کے بعد آپ نے فرمایا: میری بہت ہی پیاری عزیز بچیو ! السلام علیکم آپ سب کو مل کر اور دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے اور خدا کے فضل سے اچھی خاصی تعداد میں تربیتی کلاس لگی ہوئی ہے۔اس میں شامل ہونے والی بچیوں اور ان کے نتائج معلوم ہونے سے بڑی مسرت محسوس کر رہی ہوں۔پروگرام تو تھا میں نے لکھا ہوا تھا لیکن یہ کہ عین اس وقت میں یہاں یعنی جب کہ آپ کی کلاس کا افتتاح ہو رہا ہے۔سب سے پہلا پروگرام آپ ہی کا ہے اس لئے اپنی بچیوں سے کچھ باتیں کروں گی میں امید کرتی ہوں کہ وہ توجہ سے سنیں گی۔سمجھنے کی اور عمل کرنے کی کوشش کریں گی۔آج سے اٹھانوے سال پہلے قادیان کی بستی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بھیجا اس لئے بھیجا کہ لوگ اسلام سے دور جا چکے تھے۔اپنے پیدا کرنے والے رب سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا تھا۔مختلف قسم کی بُرائیوں اور گندگیوں میں وہ مبتلا ہو گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بھیجا وہ اکیلے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے بہت وعدے کئے کہا ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا آج سے اٹھانوے سال پہلے جو آدمی ہوں گے اس وقت وہ سوچتے ہوں گے کہ یہ کوئی دیوانے کی باتیں ہیں۔کوئی شاید پاگل شخص ہے اتنی بڑی بات کہ ساری دنیا مجھے ماننے لگ جائے گی اور دور دور تک تیری تبلیغ پہنچے