خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 482 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 482

خطابات مریم 482 خطابات ہیں۔تقویٰ کیا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی بداخلاقیوں سے بچنے کو تقویٰ کہتے ہیں۔ہر چھوٹی سے چھوٹی بُرائی سے بچنا چاہئے۔چھوٹی بُرائی بڑی بُرائی کی طرف لے جاتی ہے چھوٹی نیکی بڑی نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔محبت حسن سے یا احسان سے پیدا ہوتی ہے۔ایک خوبصورت چیز کو دیکھ کر دوبارہ دیکھیں گے۔خدا تعالیٰ کی معرفت اس کے حسن اور احسان سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا کیا انعام دئے ہیں۔یہ صفت رحمن ہے۔رحیمیت کی صفت اس کے انعامات ہیں۔رحمن اور رحیمیت خدا تعالی کی دوصفات ہیں۔جب تک ان دونوں کو نہ پہچانو اس وقت تک خدا تعالیٰ سے سچی محبت پیدا نہیں ہوتی۔جتنی معرفت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوگی اتنی ہی محبت اللہ تعالیٰ کے لئے پیدا ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام تمام برکات دینیہ کا مجموعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ جو قرآن پڑھیں گے عزت پائیں گے۔قرآن پڑھو اور پڑھاؤ۔بچیاں مشکل سے مشکل کام کرتی ہیں صرف مشکل لگتا ہے تو قرآن۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن کو آسان بنا یا پڑھنے کے لحاظ سے بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلی سٹیج خادم اور مخدوم والی ہے۔جیسا کہ ایک نوکر اس وقت اچھا ہوتا ہے جب وہ مالک کی مرضی کے مطابق کام کرے۔یعنی بندے جب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کریں تو اس کے مقرب بندے ہوتے ہیں۔دوسری سٹیج باپ اور بیٹے کی مناسبت ہوتی ہے باپ جیسا کام کرتا ہے بیٹا ویسا کام کرتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کو ایسے یاد کرو جیسے کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو یا اس سے زیادہ یاد کرو۔تیسری سٹیج انبیاء کی صفت معاف کرنا ہے۔چاہے کسی نے ستایا ہو۔ہر کوئی اپنے پیمانے اور درجے کے مطابق پیار حاصل کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) دنیا والوں کو بتا دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم سے پیار کرے تو صرف اورصرف ایک ہی راستہ اختیار کرو وہ یہ کہ اس کی بتائی ہوئی راہوں پر چلو۔یہ بات بہت ضروری ہے کہ ترجمہ سیکھو اِس