خطابات مریم (جلد دوم) — Page 481
خطابات مریم 481 خطابات کے حقوق ادا کرو دوسری طرف بندوں کے حقوق ادا کر و۔آپ نے حضرت مسیح کا واقعہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے پوچھے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔میں نگا تھا تم نے کپڑا نہیں دیا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ بھو کا یا نگا تھا۔اس کا مطلب ہے کہ میرا بندہ بھوکا تھا تم نے کھانا نہیں کھلایا۔میرا بندہ نگا تھا تم نے کپڑا نہیں دیا۔یہ ایک مثال ہے لیکن عبادت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک بندوں کے حقوق ادا نہ کر دئے جائیں۔ایک دفعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم اور اخلاق کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھ کر دیکھو۔آپ جو بھی تعلیم دیتے تھے خود اس پر عمل کرتے تھے۔آپ کے اخلاق فاضلہ میں یہ چیزیں نظر آتی ہیں۔دشمنوں کو معاف کرنا، ہمسایوں سے سلوک کرنا ، یتیموں کے ساتھ سلوک کرنا ، کون سا ایسا کام ہے جس کا نمونہ آپ کی زندگی سے نہیں ملتا۔ان سب باتوں کو تازہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور خلافت کا سلسلہ جاری کیا کہ سب باتیں تازہ رہیں۔ہمارے اخلاق اور عمل اس بات کی گواہی دیں کہ حضرت مهدی موعود بچے ہیں اور لوگ یہ کہ سکیں کہ اگر نمونہ دیکھنا ہے تو جماعت احمدیہ میں دیکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ درخت کے پھل برکات روحانیہ ہیں۔درخت کے پھل کی سب سے زیادہ قدر ہوتی ہے اگر سب برکات ظاہر ہو جائیں تو دیکھنا ہے کہ پھل کیسے ہیں صرف یہی کہ دینا کہ ہم احمدی ہیں کافی نہیں۔اس سے مذہب کی غرض پوری نہیں ہوتی۔ان اعمال کے سلسلہ میں ایسے پھل اور پھول پیدا نہیں ہوتے جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔سب سے زیادہ پیار کرنے والی ہستی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ہر ایک انسان کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ کیسے اس کی رضا حاصل ہو۔سورۃ تو بہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری اولاد اور تمہاری دولت تمہیں خدا تعالیٰ کے حصول سے پیارے ہیں تو اس دن کا انتظار کرو جب خدا تعالیٰ اس کا فیصلہ کرے۔انسان میں صرف اور صرف خدا کا پیار ہونا چاہئے۔اگر انسان کو یہ حاصل ہو جائے تو سب کچھ حاصل ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس پھل سے فائدہ اُٹھا نا مطمئنہ ہے۔خدا تعالیٰ کی معرفت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔بعض لوگ تقویٰ بہت بڑی نیکی کو کہتے -