خطابات مریم (جلد دوم) — Page 480
خطابات مریم 480 خطابات کیں اس میں عورتوں نے اپنے زیور دیئے۔کئی ایسے خطبے ہیں جس میں حضور اقدس نے اپنے اخلاق بہتر بنانے کی تحریک کی۔اسی طرح حضور اقدس نے حال ہی میں اپنی اولا دوں کو وقف کرنے کی تحریک کی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا واقعہ ہے کہ کئی صحابہ روزہ رکھ کر بیٹھ گئے جن کے روزے نہیں تھے وہ زیادہ کام کرتے رہے تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج روزہ دار سے زیادہ غیر روزہ دار ثواب لے گئے “ اعمال صالحہ وہ اعمال ہیں جن میں وقت کی قربانی صف اول میں آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔مذہب کے پھول اخلاق فاضلہ ہیں۔عیسائیت کہتی ہے کہ اگر ایک تھپڑ مارو تو دوسرا بھی آگے کر دو۔کتنے ہیں جو اس بات پر آجکل عمل کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی اصول کی فلاسفی میں خلق اور خلق میں فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ایک شخص طبعا نرم ہے جو کہ ایک بلی کو بھی مار نہیں سکتا۔وہ خلق ہے۔یہ ایک بزدل انسان ہے لیکن ایک ایسا شخص سخت طبیعت ہونے پر بھی اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے وہ خلق ہے۔مذہب کے اختیار کرنے کے نتیجے میں وہ اخلاق جس کی تعلیم قرآن مجید نے دی ہے اس پر عمل کرو۔آپ کو جھوٹ سے نفرت تھی۔آپ نے بار بار فرمایا کہ جھوٹ نہ بولو۔ہمسائیوں کے حقوق کی تعلیم دی۔اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرو۔ایسے ہزاروں واقعات ہیں کہ بیٹے ہزاروں میں کھیل رہے ہیں ماں دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ماں، باپ، ہمسائے ، دور کے رشتہ داروں سے اخلاق سے پیش آؤ۔اسلام نے ایسا اصول بنایا ہے جس میں ہم کنگھی کے دانوں کی طرح ہیں اگر اس کا ایک دانہ ٹوٹ جائے تو سارے ٹوٹ جائیں۔اسی تعلیم کے لئے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے اس وقت اسلام کے لئے جنگیں لڑیں۔جب ہندو اور عیسائی کہتے تھے کہ ہم غلبہ حاصل کریں گے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا کہ گلشن احمد میں بہار آئے گی۔میں شریعت کو قائم کرنے آیا ہوں دین کے سوکھے باغ کی آبیاری کرنے آیا ہوں۔اسلام کے دو حقوق ہیں ایک حقوق خدا کے حقوق ہیں اور دوسرے بندوں کے حقوق ہیں۔ایک طرف اللہ