خطابات مریم (جلد دوم) — Page 479
خطابات مریم 479 خطابات خطاب لجنہ اماءاللہ لندن 1987ء تشہد،تعوذ کے بعد فرمایا:۔ہر انسان مذہب اس لئے اختیار کرتا ہے کیونکہ اس کو جستجو ہوتی ہے کہ مذہب کیا ہے۔وہ راستہ جس پر انسان چلتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ”سرمہ چشم آریہ میں فرماتے ہیں۔مذہب کی جڑ خدا شناسی ہے۔مذہب انسان کو خدا تک نہیں پہنچا سکتا وہ سچا مذ ہب نہیں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ مذہب لائے۔جو اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔اسلام ایک ایسا مذ ہب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بھٹکے ہوئے انسانوں کے لئے اپنے بندوں کو مبعوث کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔میں بنی نوع انسان کو اس راستے پر چلانے آیا ہوں جس پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چلایا۔آپ کوئی نیامد ہب نہیں لائے۔درخت کے ساتھ اس کی شاخیں ہیں، پھول ہیں ان کی احتیاط کرنی پڑتی ہے اس کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہو جائے۔بعض لوگ درخت لگاتے ہیں لیکن ان کے پھل ان کی اولا دیں کھاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پھل کی وجہ سے ہم میں کون سی تبدیلیاں آئیں۔احمدیت ایک سچا مذ ہب ہے۔اگر ہم میں تبدیلی نہیں آتی جیسا کہ ہم نے ایک سچا مذہب اختیار کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اعمال صحیح نہیں ہیں۔اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔جب تک کہ ہمارے اعمال صحیح نہیں ہوتے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک آواز پر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی لیکن ہم میں ایسی تبدیلی سالہا سال کے بعد بھی نظر نہیں آتی۔عمل صالح نیک عمل کو کہتے ہیں یہ وہ عمل ہیں جن کی زمانے میں ضرورت ہو۔مثال کے طور پر ایک آدمی نماز پڑھنی شروع کر دے تو اس کو عمل صالح کہیں گے جبکہ جان بچانے کی ضرورت ہو تو ایک شخص نماز نہیں تو ڑتا تو یہ عمل صالح نہیں ہے۔مختلف وقتوں میں مختلف قربانی کی ضرورت ہے۔حضور اقدس علیہ السلام نے کئی بار تحریکیں