خطابات مریم (جلد دوم) — Page 465
خطابات مریم 465 خطابات ترقی دینے کیلئے آپ کو خود کوشش کرنی ہوگی۔دوسری مجالس نے آ کر آپ کا کام نہیں کرنا۔اس لئے آپ مل بیٹھ کر سوچیں کہ اپنے اندرونی اختلافات اور نقائص کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟ اپنی اصلاح کی طرف فوری توجہ دیں۔آپ نے فرمایا کہ ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کا خالق اس سے راضی ہو۔تقویٰ کے بغیر ہم خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں کر سکتیں۔آپ نے ازالہ اوہام سے اقتباسات پیش فرمائے اور تقویٰ کا مفہوم واضح فرمایا۔فرمایا کہ شعوری طور پر ہم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہونا چاہئے تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنے سے ہم روحانیت میں ترقی کر سکتی ہیں۔ایک معیاری انسان بننے کیلئے تقویٰ بہت ضروری ہے اور یہی ایک نسخہ کیمیا ہے جس سے ترقی حاصل ہوسکتی ہے۔پھر آپ نے حضرت بانی سلسلہ کی تحریرات کی روشنی میں تقویٰ کے حصول کے ذرائع بیان فرمائے۔آپ نے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ خدمت دین کو اک فضل الہی جانو عہدہ کوئی فخر کی جانہیں بلکہ یہ تو سرا سر خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے کہ اس نے خدمت کیلئے موقع دیا ہے۔سب سے بڑا خلق یہ ہے کہ اپنے آپ کو سب سے کمتر سمجھا جائے اور ہر قسم کے تکبر سے بچا جائے کیونکہ تکبر انسان کو خدا سے بہت دور لے جاتا ہے۔خدا کے احسانات کو یا در کھتے ہوئے آپ کو انکساری اختیار کرنی چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ سَيِّدُ القَومِ خَادِمُهُم قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔تمام خواتین اپنے اند را نکساری پیدا کریں۔عہد یداران خصوصاً اس طرف توجہ دیں ہر روز اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔صوفیائے کرام نے بھی اس طرف بہت زور دیا ہے۔انسان اپنا سب سے بڑا امتحن خود ہوتا ہے وہ دوسروں سے تو سب کچھ چھپا سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ سے اور اپنے نفس سے وہ کچھ نہیں چھپا سکتا۔سو اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں اپنے عہد کو پیش نظر رکھتے ہوئے وقت کی قربانی دیں اور اجلاسوں میں حاضری کی کمی کی شکایت کو دور کریں۔فرمایا کہ ہر احمدی خاتون کا فرض ہے کہ وہ اپنے عہدہ داروں کی اطاعت کرے جتنی ذمہ داریاں عہد یداران کی ہوتی ہیں اُتنی ہی عام