خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 464 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 464

خطابات مریم 464 تربیتی دورہ سیالکوٹ خطابات (3 /دسمبر 1986ء) 14 دسمبر کو صبح دس بج کر پچیس منٹ پر اجلاس عام منعقد کیا گیا جس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں بارہ سال کے بعد اس شہر میں آئی ہوں۔حالات کو الزام دینے کی بجائے میں اپنی سستی تسلیم کرتی ہوں کہ اس جماعت کو بہت توجہ کی ضرورت تھی جو نہیں دی جاسکی۔آپ نے فرمایا کہ سیالکوٹ کی جماعت بہت محنتی اور فعال تھی۔حضرت فضل عمر اس کی مثال دوسری بجنات کے سامنے پیش فرمایا کرتے تھے۔بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس لجنہ کا شمار صف اول میں ہوتا تھا آج وہ انتہائی سستی اور جمود کا شکار ہو چکی ہے اور آپس میں بہت سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلی بات جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ تمام خواتین اور عہدیداران آپس میں اتفاق پیدا کریں کیونکہ جھگڑوں سے کام میں تنزل آ جاتا ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں اپنی کمزوری صحت کے باوجود یہاں بار بار آنے کی کوشش کروں گی تا آپ کی اصلاح کے لئے کچھ کوشش کر سکوں۔آپ نے فرمایا کہ ایک ترقی کرنے والی جماعت کے اندر جن خصوصیات اور اتفاق کا پایا جانا ضروری ہے وہ آپ کے اندر موجود نہیں۔اس ضمن میں آپ نے امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطبہ جمعہ کے ارشادات کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا کہ عہد بار بار دہرانے کے باوجود آپ اس پر عمل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتیں۔اپنی مجلس کو آگے بڑھانے اور