خطابات مریم (جلد دوم) — Page 463
خطابات مریم 463 اختتامی خطاب جلسہ کھاریاں ضلع گجرات خطابات تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے خواتین کو جو نصائح فرمائیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں نے اس اجتماع میں آپ کی خواہش کے مطابق شرکت کی۔میرے آنے کی غرض یہی تھی کہ آپ کے کام کا جائزہ لوں اور آپ کے نقائص کی طرف توجہ دلاؤں۔فرمایا کہ ہمارے اجتماعات کے پروگرام اس طریق پر بنائے جاتے ہیں کہ اس میں زیادہ سے زیادہ تربیتی پروگرام ہوں۔آپ نے فرمایا کہ اگر پوری توجہ سے پروگرام نہ سنا جائے تو اس کا مقصد ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔آپ نے گزشتہ روز کے اجلاس کے آخری وقت میں پیدا ہونے والے شور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نظم و ضبط ، صف بندی اور دینی محافل کے آداب برقرار رکھنے کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے انڈونیشیاء میں منعقد ہونے والے سات مقامات کے اجلاسوں کے نظم و ضبط کی بہت تعریف فرمائی اور مرکز اور جماعتوں میں منعقد ہونے والے اجتماعات اور جلسہ سالانہ کے مواقع پر صحیح نمونہ کا مظاہرہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار فرماتے ہوئے خواتین کو تاکید فرمائی کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی ایسے رنگ میں تربیت کریں کہ وہ بھی جماعتی جلسوں میں ایسا ہی نمونہ پیش کریں جو بیرون کے اجتماعات میں دیکھنے میں آتا ہے۔پھر آپ نے حاضرات کو عہدیداران کی اطاعت کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا کہ تقریر میں کر لینا اور سن لینا ہی کافی نہیں۔بہترین معاشرہ کے قیام کے لئے گھر کی تربیت بہت ضروری ہے۔ایسے رنگ میں تربیت ہو کہ اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آئے۔حضرت سیدہ موصوفہ نے خطاب جاری رکھتے ہوئے حاضرات کو قرآن مجید کا علم سیکھنے اور اس کے احکامات پر چلنے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ یہی ہمارا اصل دستور حیات ہے۔اسی تعلیم پر عمل کرنے سے ہماری کامیابیاں وابستہ ہیں۔ہر ماں اور باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے گھر میں بچیوں کے لئے قرآن کریم کی تعلیم رائج کریں۔آپ نے فرمایا کہ خدا کرے کہ میری آواز صدا بصحرا ثابت نہ ہو۔ہمارے بچے اور آئندہ نسل ہم سے بڑھ کر مخلص ہو۔(سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ مرکز یہ 1986ء)