خطابات مریم (جلد دوم) — Page 460
خطابات مریم 460 خطابات دورہ کھاریاں ضلع گجرات 30 ستمبر 1986ء اپنے خطاب میں آپ نے اجتماعات کی غرض و غایت بیان فرمائی اور اس ضمن میں سورۃ توبہ کی آیت مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (التوبۃ : 122) تلاوت فرمائی اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومنوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ سب کے سب اکٹھے ہو کر تعلیم دین کے لئے نکلیں۔پس ایک گروہ نکل پڑتا تا کہ وہ پوری طرح دین سیکھ کر اپنی قوم میں واپس لوٹ کر دوسروں کو بے دینی سے ہوشیار کرتا تا وہ گمراہی سے ڈرنے لگتے۔یہی طریق ہمارے لئے ہے کہ ہم اپنے اجتماعات میں نمائندگی کے اصول کو اپناتے ہوئے شرکت کریں۔ہماری دینی مجالس کے انعقاد کی بڑی غرض یہ ہے کہ ہم مل بیٹھ کر اپنی ذمہ داریوں کی طرف نگاہ کریں اور دیکھیں کہ کونسی سستیاں اور غفلتیں ہمارے اندر پائی جاتی ہیں اور ہماری ترقی کی راہ میں روک بنی ہوئی ہیں اور پھر ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔آپ نے فرمایا کہ اس اجتماع پر جو بچی اور بہن آئی ہے وہ اپنی مجلس کی نمائندگی کر رہی ہے اس کا فرض ہوگا کہ وہ جو کچھ یہاں سے سیکھے اور حاصل کرے وہ جا کر دوسروں کو بھی سکھائے۔ہر امتحان کے لئے ایک معیار ہوتا ہے۔آپ اپنے میعار کو مدنظر رکھیں اور سوچیں کہ ہمارا معیار کن دینی خدمات اور قربانیوں کا متقاضی ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہماری زندگیوں میں ایک روحانی انقلاب بر پا ہونا چاہئے کیونکہ ہم نے زندہ نبی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ " قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران: 32) پس آپ کو چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو دیکھیں اور اسے اپنانے کا تہیہ کریں کیونکہ