خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 431 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 431

خطابات مریم 431 خطابات سیکرٹری تربیت و اصلاح مقرر ہوئیں۔نیز ربوہ میں دوسری تعلیم القرآن کلاس کی طالبات کی رہائش کے انتظامات کی نگران بھی رہیں۔جب تک صحت جواب نہ دے گئی لجنہ اماءاللہ کے کسی نہ کسی عہدہ پر رہیں۔چار سال جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر بھی کام کیا لیکن سب سے نمایاں خدمات اُنہوں نے بحیثیت ناظمہ جلسہ سالانہ اور ناظمہ اجتماع لجنہ اماءاللہ کے سرانجام دیں ان دنوں میں اپنے گھر کی ذمہ داریوں سے بکلی سبکدوش ہوکر سارا سارا دن اور دیر تک رات کو دفتر میں ٹھہر تی تھیں۔بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں لنگر خانہ کا کھانا کھانے کی وجہ سے اکثر جلسے اور اجتماع کے بعد بیمار پڑ جاتی تھیں غرض کہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لحاظ سے محسنین میں ان کا وجو دشمار ہوتا ہے اور مَنْ قَضَى نَحْبَهُ کے زمرہ میں آپ کا وجود آتا ہے۔سینکڑوں لڑکیوں کو قرآن مجید سادہ اور باترجمہ پڑھا یا شدید بیماری سے بہت تھوڑا عرصہ قبل تک پڑھاتی رہیں بے حد عبادت گزار، شب بیدار، کثرت سے نوافل ادا کرنے والی اور بہت دعائیں کرنے والی تھیں۔غرض ان کی وفات جماعت احمدیہ کی خواتین اور ممبرات لجنہ اماءاللہ کے لئے ایک عظیم نقصان تھی۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی روح پر اپنے فضلوں کی بارش برسا تا ر ہے۔آمین اس سال یعنی 12 / جولائی 1985ء کو حضرت استانی مریم صاحبہ جو حضرت حافظ روشن علی صاحب کی اہلیہ تھیں اور لجنہ اماءاللہ کی ابتدائی چودہ ممبرات میں سے ایک تھیں۔ایک طویل بیماری کے بعد وفات پا گئیں۔حضرت فضل عمر نے جب 1922ء میں لجنہ اماءاللہ کی بنیادرکھی تو ایک مضمون جو ابتدائی تحریک کے نام سے تاریخ لجنہ اماءاللہ میں موسوم کیا جاتا ہے لکھ کر احمدی مستورات کو تحریک کی کہ جو اس میں خوشی سے شامل ہونا چاہے شامل ہوا اور اس پر دستخط کرے اس فہرست کے آٹھویں نمبر پر ان کا نام درج ہے اور ان کی وفات کے بعد اب ان چودہ میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہیں۔اللہ تعالیٰ ان ابتدائی نمبرات پر اپنے رحم وفضل کی بارش برساتا رہے جنہوں نے قربانیوں کی ابتدا کر کے ہمارے لئے عمل کی راہیں استوار کیں۔آپ نے قادیان میں لجنہ اماء اللہ کے بہت سے عہدوں پر کام کیا ہے۔نائب صدر ر ہیں، قائمقام سیکرٹری کا فریضہ انجام دیا، خزانچی رہیں ، دستکاری کا کام کیا ، جلسہ سالانہ کے موقع پر مختلف فرائض سرانجام دیتی رہیں۔الفضل میں کثرت سے مضامین لکھے جلسوں میں تقریریں بھی کرتی رہیں اور ہزارہا