خطابات مریم (جلد دوم) — Page 430
خطابات مریم 430 خطابات جاری ہو۔آپا نصیرہ ( کہ جماعت میں وہ اسی نام سے پکاری جاتی تھیں ) ایسی ہی خوش بخت خاتون اور ایسے ہی خوش بخت والدین کی بیٹی تھیں۔بچپن سے اپنی والدہ حضرت سیدہ اُم داؤ د کو لجنہ کا کام کرتے دیکھا اور ان سے تربیت حاصل کی۔سیدہ اُم داؤ د مرحومہ کا نام لجنہ اماءاللہ کی خدمات کے سلسلہ میں نمایاں نظر آتا ہے تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی اور تنظیمی صلاحیتیں اُجاگر کرنے کے میدان میں بھی یعنی جلسہ سالانہ کے موقع پر عورتوں میں مہمان نوازی کے تمام مرحلے ان کی راہ نمائی میں سرانجام پاتے تھے۔اب بھی جب جلسہ سالانہ کے انتظامات شروع ہوتے ہیں تو چشم تصور ان کو ہدایتیں دیتے ، نقشے بناتے ،نگرانی کرتے دیکھتی ہے۔آپا نصیرہ چونکہ شادی ہوکر قادیان سے باہر چلی گئیں تھیں اس لئے ان کی خدمات کا سلسلہ صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد جب آپ نے قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی شروع ہوتا ہے۔قادیان میں 1946ء میں الیکشن کے موقع پر ان کے گھر کو کام کرنے کا مرکز بنایا گیا۔خواتین کی خاصی بڑی تعداد روزانہ جمع ہوتی اور سیدہ اُمّم داؤد صاحبہ ان کو ہدا یتیں دیتیں۔صبح سے شام تک کام ہوتا اور آپا نصیرہ تمام آنے والی خواتین کی مہمان نوازی کرتیں۔چائے ، کھانے وغیرہ کا خیال کرتیں تمام خرج اپنے پاس سے کیا۔ایک پیسہ بھی اس زمانہ میں لجنہ نے خرچ نہیں کیا خاصی بڑی تعداد مبرات کی جو وہاں بیٹھ کر کام کرتی ان کے دو پہر کے کھانے اور شام کی چائے کی مکمل ذمہ داری نہایت خوش دلی سے اُنہوں نے اُٹھائی۔1945ء میں حلقہ بیت الفضل قادیان کی ممبرات کو خواندہ بنانے کے کام کی ذمہ داری اور نگرانی کی۔اس کے علاوہ 1945ء میں جلسہ سالانہ سے اُنہوں نے بطور نائبہ ناظمہ مستورات کام کرنا بھی شروع کیا پھر پارٹیشن ہوئی اور وہ بھی لاہور آ گئیں۔لاہور آ کر یہاں لاہور کی لجنہ کی تنظیم کی طرف توجہ دی گئی وہاں قادیان سے آئی ہوئی مہاجرات کی تنظیم بھی کی گئی اس عرصہ تک جب وہ کہیں مستقل طور پر قیام پذیر ہوں ان کا سنبھالنا اور تعلیم و تربیت کا خیال رکھنا ایک بڑا کام تھا۔اس تنظیم کی صدر سیده ام داؤد صاحبہ اور سیکرٹری آپا نصیرہ تھیں اُنہی دنوں فرقان فورس کے مجاہد کشمیر میں دا دشجاعت پارہے تھے ان کی وردیوں اور جرابوں کی مرمت کا کام لجنہ کے سپر دکھا اور یہ کام بھی آپ دونوں کی نگرانی میں ہوتا تھا۔1949ء میں ربوہ منتقل ہونے پر آپ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی