خطابات مریم (جلد دوم) — Page 19
خطابات مریم 19 طرف توجہ دلائی۔(الفضل 26 جولائی 1939ء) تحریرات خلافت جو بلی کے موقعہ پر جب مستورات کے جلسہ میں حضرت مصلح موعود نے تشریف لا کر جھنڈا لہرایا تو استانی جی صاحبہ نے عورتوں میں نعرے لگوائے۔یکم مارچ 1940ء کو لجنہ اماءاللہ قادیان نے نور ہسپتال قادیان کے لئے چندہ جمع کرنے کیلئے جلسہ کیا جس میں استانی میمونہ صاحبہ نے چندہ کی تحریک کی۔1942ء میں حضرت سیدہ اُم طاہر مرحومہ صدر لجنہ منتخب ہو ئیں تو نئی مجلس عاملہ میں بھی آپ سیکرٹری مال مقرر ہوئیں۔( تاریخ لجنہ جلد اوّل صفحہ 496) نیز محلہ دار الفضل کی لجنہ کی صدر بھی۔1944 ء میں حضرت مصلح موعود نے جماعت سے سلسلہ احمدیہ کے لئے اپنی جائیدادیں وقف کرنے کا مطالبہ فرمایا چند گھنٹوں کے اندر قادیان کے اصحاب نے 40 لاکھ روپے کی جائیداد میں وقف کر دیں۔ان وقف کرنے والیوں میں استانی جی بھی شامل تھیں۔آپ نے اپنے ذاتی مکان کا 4/ 3 حصہ وقف کر دیا۔1946ء میں الیکشن کے سلسلہ میں تعلیم بالغاں کی مہم شروع کی گئی اور کوشش کی گئی کہ قادیان کی ہر احمدی عورت خواندہ ہو جائے اس سلسلہ میں بھی استانی میمونہ صاحبہ نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔حضرت سیدہ اُم داؤد کی زیر نگرانی قادیان اور اس کے گردو نواح میں دورے کئے۔پڑھنا لکھنا سکھایا اور کام کی نگرانی کی۔جلسہ سالانہ پر تقریر کرنے کے علاوہ 1944 ء کے بعد سے ہر سال جلسہ مصلح موعود میں بھی آپ تقریر فرمایا کرتی تھیں اور جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک اجلاس میں تو آپ تلاوت قرآن کریم ضرور کرتی تھیں۔اسی طرح سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، یوم خلافت کے جلسوں میں بھی اور لجنہ کے تربیتی جلسوں میں بھی آپ کی تقریر ضرور ہوتی تھی۔1947ء میں ملک تقسیم ہوا قادیان سے ہجرت کر کے احمدی پاکستان پہنچے مکرمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی بیٹی ان دنوں کراچی تھیں آپ قادیان سے آ کر اپنی بیٹی کے پاس کراچی تشریف لے گئیں اور لجنہ کراچی کی تنظیم کی ، ملک کی تقسیم کی وجہ سے ہندوستان کے مختلف علاقوں