خطابات مریم (جلد دوم) — Page 383
خطابات مریم 383 خطابات دعویٰ لے کر کھڑی ہوئی ہے نمونہ کا جتنا اثر ہوتا ہے اتنا زبانی باتوں کا نہیں ہوتا۔مجھے لندن کے بہت سے حلقہ جات اور انگلستان کی کئی اور جماعتوں کے اجلاسوں میں آپ سے خطاب کرنے کا موقع ملا ہے ہر جگہ آپ کو توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتی ہوں کہ آپس کی رنجشوں کو ترک کریں ہمارا مقصد بہت اعلیٰ ہے کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام جلد غالب آ جائے۔ساری دنیا کو علم ہو جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آچکے ہیں اور ساری دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لے اگر آپ چھوٹی چھوٹی باتوں، بھٹوں اور شکووں میں لگی رہیں تو یہ اعلیٰ اور ارفع مقصد کہ آپ نے ہر شخص تک جاء ابیح جاء اصبح کا پیغام پہنچانا ہے پورا نہیں ہوسکتا۔تبلیغ کی طرف توجہ دیں آپ کے اندر جنون ہونا چاہئے کہ اسلام اور احمدیت کے پیغام کو دنیا تک پہنچائیں۔اپنے قول اور اخلاق کے ذریعے سے اپنی حسین اور جنتی زندگی کا نمونہ پیش کرنے کے ذریعہ سے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں آپ کی قربانیوں کا معیار بھی یکساں ہونا چاہئے۔جس کی طرف میں اپنی پچھلی تقریر میں توجہ دلا چکی ہوں کہ چند عہدیداروں کے کام کرنے سے کام ترقی نہیں کرتا جب تک آپ ساری کی ساری بہنیں جو یہاں موجود ہیں ان میں ایک سا جذ بہ نہ ہو ایک سی لگن ہو یکساں کام کرنے کا شوق ہو یکساں اخلاق ہو جس کی قربانی کا مطالبہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے ہو وہ سب قربانی پیش کر دیں۔اس ملک میں رہتے ہوئے دجالیت سے اپنے کو محفوظ کر میں اپنے بچوں کو بچائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بچوں کی آمین میں اپنی اولاد کے لئے یہ دعا کی ہے۔نہ آئے ان کے گھر تک رعب دجال حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو آئے ہی دجال کو مٹانے کے لئے تھے اور یہی غرض آپ کی جماعت کی ہے اس ملک میں رہتے ہوئے جو د جالیت کا مرکز ہے۔آپ نے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا ہے اپنی نسلوں کو محفوظ کرنا ہے تا آپ نیک نمونہ سے دنیا کو اسلام کی طرف رجوع کریں۔حضرت مصلح موعود جب 1924 ء میں یہاں تشریف لائے اور مسجد فضل لندن کی بنیا درکھی تو آپ نے اپنے ایک خط میں فرمایا کہ میں نے انگلستان کا دورہ کیا ہے میں مایوس نہیں ہوں