خطابات مریم (جلد دوم) — Page 374
خطابات مریم 374 خطابات اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر بڑے فضل کئے ہیں آپ کو احمدی جماعت میں پیدا کیا یا احمدیت کی نعمت کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ظاہری لحاظ سے بہت فضل کیا اور دنیاوی نعمتوں کی فروانی عطا کی لیکن خدا تعالیٰ کا پیار وہی حاصل کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کی دی ہوئی قوتوں کو اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کرے گا۔زیادہ سے زیادہ قربانی دے گا۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قربانی کا معیار کیا ہے جس پر ایک احمدی کو پورا اُترنا چاہئے تو میری پیاری بہنو! اللہ تعالیٰ نے قربانی کا معیار خود قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اللہ تعالیٰ سورۃ تو بہ میں فرماتا ہے۔قدان كان اباؤُكُمْ وَابْنَاؤُكُمْ وَاخْوَانُكُمْ وَازْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَامْوالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَ تِجَارَةً تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا احب اليْكُمْ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بامرِها ، وَاللهُ لا يَهْدِى الْقَوْم الفسِقِينَ - (التوبه :24) ترجمہ: کہہ دے اگر تمہارے ماں باپ اور اولاد اور بھائی بہنیں اور میاں بیوی یا تمہاری برادری اور وہ مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے خراب ہونے سے تم ڈرتے ہو اور رہائش کی جگہیں یا وطن جن کو تم پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول اور دین کیلئے کوشش کرنے کی نسبت تم کو زیادہ پسند ہیں تو تم اس وقت تک انتظار کرو جب تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرلے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔یہ آیت پیمانہ ہے یا کسوٹی ہے جاننے کے لئے کہ اس کی قربانیوں کا معیار کیا ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خود ماں باپ کی عزت کرنے اور ان کی خدمت کرنے کی تاکید فرماتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت قرار دی ہے۔بھائی بہنوں سے محبت اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم ہے۔خاوند کو بیوی سے نیک سلوک کرنے کا اور بیوی کو خاوند کے حقوق ادا کرنے کا حکم ہے۔اولاد کی عزت کرنے ان کی اعلیٰ تربیت کرنے اور اُن کا ہر لحاظ سے خیال رکھنے کا حکم ہے۔روپیہ کمانے سے منع نہیں کیا۔مکان بنانے سے منع نہیں