خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 364 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 364

خطابات مریم 364 خطابات عیادت کو جائے اور جب مرے تو اس کے جنازہ پر جائے ادنی ادنی باتوں پر جھگڑا نہ کرے بلکہ درگزر سے کام لے خدا کا یہ منشاء نہیں کہ تم ایسے رہو۔اگر سچی اخوت نہیں تو جماعت تباہ ہو جائے گی“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 406) میری بہنو! یہ وہ ابتدائی نقشہ ہے جو ایک قوم کے لئے جنہوں نے ترقی کرنی ہے ضروری ہے انہوں نے دوسروں کی تربیت کرنی ہے ان کو بتانا ہے کہ احمدیت قبول کرو یہی حقیقی اسلام ہے۔اس میں ہی تمہاری نجات ہے اپنے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تو دوسرے کو کس منہ سے نصیحت کرو گے اس سلسلے میں مجھے افسوس ہے کہ باوجود بڑی منظم، بڑی مخلص اور قربانی کرنے والی جماعت کے یہاں بھی عورتوں میں آپس میں بدظنی ، جھگڑا ، فساد پایا جاتا ہے حالانکہ ان باتوں کا تو سایہ بھی تم پر نہیں پڑنا چاہئے۔جماعت احمدیہ میں داخل ہوتے وقت ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ جو کام آپ بتائیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔بیعت فارم پر دستخط کرتے وقت کبھی غور کیا ہے کہ آپ بیعت کی جو دس شرائط ہیں اس پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں ہر شرط میں اتنا وسیع مضمون ہے کہ اتنے تھوڑے وقت میں بیان بھی نہیں کیا جا سکتا صرف چند باتوں کی طرف توجہ دلاتی ہوں ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ مسلمان ہیں اور مسلمان کی تعریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمائی ہے۔الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِه (بخاری کتاب الایمان ) یعنی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔سوچا کریں کہ آپ احمدی ہیں آپ نے اس زمانہ کے امام کو مانا ہے اور اس کے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔بیعت کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان الفاظ میں فرماتے ہیں :۔” بیعت کرنے والا اپنے نفس کو مع اس کے تمام لوازم کے ایک رہبر کے ہاتھ میں اس غرض سے نیچے کہ تا اس کے عوض میں وہ معارف حقہ اور برکات کا ملہ حاصل کرے جو موجب معرفت اور نجات اور رضامندی باری تعالیٰ ہوں“۔(روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 498۔ضرورت الامام) اور اس رتبہ کو حاصل کرنے کیلئے اس امتحان کو پاس کرنا ہو گا جو شرائط بیعت کا امتحان ہے۔