خطابات مریم (جلد دوم) — Page 356
خطابات مریم 356 خطابات ہوئے شرماتے تھے اور مایوس تھے اسلام کی ترقی سے۔ان کیلئے بھی چونکنے والی بات تھی کہ اس وقت کوئی دردمند مسلمان نہیں اُٹھا جس نے اسلام کے دلائل کیلئے ایسی کتابیں لکھی ہوں جس طرح حضرت مسیح مهدی موعود نے لکھیں جس کی مثال براہین احمدیہ ہے لیکن دیکھتے کیا ہیں کہ خدا تعالی کا جو یہ وعدہ ہے تحتب الله لاغلب آنا و رُسُلي (مجادلة: 22) کہ میں اور میرے رسول آکر ہمیشہ غالب رہیں گے یہی ایک آخری دلیل ہے کسی کی صداقت کی۔خدا تعالیٰ کی نصرت نے دکھا دیا کہ آپ اکیلے تھے اور ابھی پچانوے سال کا عرصہ گزرتا ہے کہ نہ صرف ہندوستان ، پاکستان بلکه انگلستان ، افریقہ (مغربی ، مشرقی ، شمالی ، جنوبی ) امریکہ، جنوبی امریکہ، کینیڈا، ماریشس میں دنیا کا کوئی حصہ زمین ایسا نہیں جہاں پر آپ اور آپ کے خلفاء کی بنائی تعلیم کے مطابق جماعتیں قائم نہ کی گئی ہوں اور اسلام کی تبلیغ نہ کی جارہی ہو۔خدا تعالیٰ نے آپ سے جو وعدے کئے تھے اور جو بشارتیں دیں تھیں کہ آج سے تین صدیاں نہیں گزریں گی کہ ساری دنیا اسلام قبول کر چکے گی۔عیسائی بیزار ہو جائیں گے دوسرے مذاہب والے بھی۔آخر سب کا رجوع پھر اسلام کی طرف ہوگا۔یہ وعدے بچے ہیں ، اٹل ہیں خدا کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا جو اس نے اپنے مسیح سے کیا تھا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں لیکن ان وعدوں میں فرق نہیں پڑسکتا۔یہ ہمارا ایمان ہے لیکن دیکھنا ہم نے یہ ہے کہ اس غلبہ اسلام کے لئے جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں کیا ہماری جماعت کی خواتین ان ذمہ داریوں کو اُٹھانے کیلئے اپنے آپ کو تیار کر رہی ہیں؟ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے ولتنظرْ نَفْسٌ مَّا نَةٌ مِّتْ لِغَدٍ (الحشر: 19) کہ یہ انسان کو دیکھتے رہنا چاہئے کہ اس نے اپنے کل کیلئے کیا آگے بھیجا۔کل سے مراد کل کا دن بھی ہوسکتا ہے۔کل سے مراد مستقبل بھی ہو سکتا ہے۔کل سے مراد قیامت کا دن بھی ہوسکتا ہے۔جب خدا کے حضور پیش ہوگا لیکن سب سے بڑے اور اچھے معنی میرے نزدیک اور جن پر خلیفة المسیح الرابع نے بھی توجہ دلائی یہ ہیں کہ آپ نے اپنی اگلی نسل کیلئے کیا تیاری کی ؟ آج آپ کے بچے چھوٹے ہیں یہاں پر کوئی پاکستان سے اور کوئی ہندوستان سے آ کر آباد ہوئی ہیں۔آپ لوگوں نے اپنے ماں باپ سے، نانا نانی سے، دادا دادی سے، اپنے بزرگوں کے