خطابات مریم (جلد دوم) — Page 331
خطابات مریم 331 خطابات الوداعی تقریب مؤرخہ 3 نومبر 1982ء کو لجنہ اماءاللہ لاہور کی مجلس عاملہ نے اپنی سابقہ صدر محترمہ صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ کے جانے پر ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا جس میں لاہور کے تمام حلقوں کی صدور اور سیکرٹریوں نے شرکت کی چونکہ محترمہ صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ نے نہایت محنت و جانفشانی کے ساتھ بہت ہی مشفقانہ انداز میں ایک طویل عرصہ تک اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ پورے کئے ہیں۔چنانچہ آپ کی دینی خدمات کے پیش نظر اس تقریب میں مرکز سے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو مدعو کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر آپ نے مختصر خطاب فرمایا : آپ نے یاد دلایا کہ کس طرح لجنہ اماء اللہ کے قیام کے دو سال بعد لجنہ اماءاللہ لا ہور کا قیام عمل میں آیا۔پھر وہ دور بھی آیا جس پر ہمیشہ لجنہ لا ہور کو فخر رہے گا کہ حضرت اقدس کی دختر نیک اختر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ لجنہ لاہور میں صدارت کے منصب ں پر مکن ہوئیں۔آپ نے ہمیشہ ہی اپنی بیش قیمت نصائح اور مشوروں سے لجنہ کو نوازا اور ہمیشہ اس کی ترقی کیلئے کوشاں رہیں۔آپ کے بعد جب حضرت مصلح موعود کی دختر محترم صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ صدارت کے عہدہ پر فائز ہوئیں تو پورے سترہ برس نہایت دلجمعی ، توجہ، دلچسپی اور خوشدلی کے ساتھ ان تھک جدو جہد کی۔یہی وجہ ہے کہ آج لجنہ لا ہور ترقی کی راہ پر گامزن نظر آتی ہیں۔آپ نے ایک اور خوبی کا بھی تذکرہ یوں کیا کہ اتنے طویل عرصہ میں لجنہ لاہور کی جانب سے کبھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی مرکز میں رپورٹ نہیں آئی اور اس کا سہرا خود صدر لا ہور صاحبزادی امتہ العزیز بیگم کے سر پر ہے کہ انہوں نے نہایت فہم و تد بر تحمل و برد باری اپنی ذاتی خوش اخلاقی کے ساتھ تمام امور نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیئے کہ ذاتی رنجشوں اور جھگڑے بکھیڑوں کی کبھی نوبت ہی نہ آئی۔اس طرح سے آپ ہمیشہ اپنی ممبرات اور کارکنات میں