خطابات مریم (جلد دوم) — Page 329
خطابات مریم 329 خطابات عليْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لا تَبَعْتُمُ الشَّيْطن الاقلِيلاً (النساء : 84) ترجمہ: اور جب بھی اُن کے پاس امن کی یا خوف کی کوئی بات پہنچی تو وہ اسے مشہور کر دیتے اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکام کی طرف لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس یعنی مقررہ بات کی اصلیت کو معلوم کر لیا کرتے ہیں اس کی حقیقت کو پالیتے اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو سوائے چند ایک کے باقی لوگ شیطان کے پیچھے چل پڑتے۔ہر ایک سے کہنے سے بُرائی کا سد باب نہیں ہوسکتا ذمہ دار شخص تک بات پہنچانی چاہئے تاوہ اس کا حل سوچیں اور اس بُرائی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منع فرمایا ہے کہ سنی ہوئی بات جب تک تحقیق نہ کر لومت پہنچاؤ۔فرماتے ہیں۔نہیں ہے سنی سنائی بات دیکھنے کی طرح اگر دیکھ بھی لی ہے تو بیان نہ کرتے پھر و پردہ پوشی کرو۔افواہیں پھیلانے کا سب سے بڑا سبب بدظنی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مَّنَ الظَّنِ رَانٌ بَعْضَ الظَّةِ اثْمَّ (الحجرات: 13) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو۔تجسس نہ کرو ا چھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو، حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ بر تو جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ اسے رسوا نہیں کرتا اور اسے حقیر نہیں جانتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بدظنی سے منع فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہے تو پھر کیوں ظن بد سے ڈر ڈر نہیں ہے کوئی جو ظن رکھتا بد ہے عادت بدی خود وہ رکھتا ہے ارادت