خطابات مریم (جلد دوم) — Page 327
خطابات مریم 327 خطابات اسی طرح فرماتا ہے۔قف فاذا عزم الأمرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ (محمد :22) اگر وہ اللہ کے حضور سچے بنتے یعنی جو اطاعت کا وعدہ کیا تھا پورا کر دیتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا۔اسی طرح فرماتا ہے :۔قُولُو قَوْلاً سَدِيدًا (احزاب (71) ایچ بیچ والی دھوکہ دینے والی بات ایسی بات جس سے منافقت کی بو آئے نہ کہو۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کی عورتوں اور بچیوں میں صداقت کا وہ بلند معیار قائم نہیں رہا جو قرآن کا معیار ہے جو آنحضرت ﷺ کا پیش کردہ معیار ہے ایک زمانہ تھا کہ باوجود اختلاف عقائد کے اگر گواہی کا سوال ہوتا تھا تو سب سے سچی اور قابل اعتبار گواہی ایک احمدی کی سمجھی جاتی تھی صرف اس لئے کہ وہ احمدی ہے جھوٹ نہیں بولے گا۔آنحضرت ﷺ نے سچ بولنے کی بہت تاکید فرمائی ہے اور جھوٹ کی بے حد مذمت کی ہے۔آپ فرماتے ہیں سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف اور جو انسان ہمیشہ سچ بولے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ صدیق لکھا جاتا ہے اور گناہ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور جہنم کی طرف اور جو آدمی ہمیشہ جھوٹ بولے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھا جاتا ہے۔ایک اور حدیث ہے۔حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ مجھے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان اچھی طرح یاد ہے کہ شک میں ڈالنے والی باتوں کو چھوڑ دو۔شک سے مبرا یقین کو اختیار کرو کیونکہ یقین بخش سچائی اطمینان کا باعث بنتی ہے اور جھوٹ اضطراب اور پریشانی کا موجب ہوتا ہے۔جھوٹ کی مذمت کے متعلق حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ایک اور حدیث بہت ہی اہم ہے حضرت ابوبکر بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے