خطابات مریم (جلد دوم) — Page 315
خطابات مریم 315 خطابات ساتھ چلتی تھی ایک دن حضرت اماں جان کے پاس محمد احمد ،منصور احمد اور ناصر احمد تینوں بیٹھے تھے میں بھی تھی۔بچوں نے بات کی شاید حساب یا انگریزی ناصر احمد کو سمجھ نہیں آتا ہمیں زیادہ آتا ہے۔اتنے میں حضرت بھائی صاحب ( حضرت مصلح موعود ) تشریف لائے۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ ”میاں ! قرآن شریف تو ضرور حفظ کراؤ مگر دوسری پڑھائی کا بھی انتظام ساتھ ساتھ ہو جائے۔کہیں ناصر احمد دوسرے بچوں سے پیچھے نہ رہ جائے مجھے یہ فکر ہے۔اس پر جس طرح آپ مسکرائے تھے اور جو جواب آپ نے حضرت اماں جان کو دیا تھا وہ آج تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔فرمایا۔اماں جان آپ اس کا فکر بالکل نہ کریں۔ایک دن یہ سب سے آگے ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اب سوچتی ہوں کہ کیسی ان کے منہ کی بات خدا تعالیٰ نے پوری کر دی علم عام بھی اور علم خاص دینی بھی اور آب قبائے خلافت عطا فرما کر سب کے آگے کر دیا۔(ماہنامہ مصباح نومبر دسمبر 1978ء) حضرت مصلح موعود کو بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیدائش کی خبر دی ہوئی تھی کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا۔8 /نومبر 1965ء کو آپ خلیفہ ہوئے اور 9 نومبر کی شام کو حضرت مصلح موعود کا جنازہ پڑھانے سے قبل آپ نے ایک عہد کیا اسی طرح جس طرح حضرت مصلح موعود نے حضرت اقدس کے جسد مبارک کے سرہانے کھڑے ہو کر کیا تھا۔حضرت خلیفۃ اصبح الثالث نے فرمایا :۔میں چاہتا ہوں کہ نماز جنازہ ادا کرنے سے قبل ہم سب مل کر اپنے رب رؤف کو گواہ بنا کر اس مقدس منہ کی خاطر جو چند گھڑیوں میں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے اپنے ایک عہد کی تجدید کریں اور وہ عہد یہ ہے کہ ہم دین اور دین کے مصالح کو دنیا اور اس کے سب سامانوں اور اس کی ثروت اور وجاہت پر ہر حال میں مقدم رکھیں گے اور دنیا میں دین کی سر بلندی کے لئے مقدور بھر کوشش کرتے رہیں گئے“۔(الفضل 11 نومبر 1965ء) اے جانے والے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے سترہ سالہ دور خلافت میں اپنے