خطابات مریم (جلد دوم) — Page 309
خطابات مریم 309 خطابات افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ مرکز یہ 1982ء صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ آپ کو مرکز میں لایا تا کہ آپ میں اس اجتماع میں شامل ہو کر نیا عزم اور نیا جوش پیدا ہو۔ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کریں اس کے لئے ایک تو میں یہ اعلان کرتی ہیں کہ آئندہ سال سے ایک انعام اس بچی کو دیا جائے گا جس کے متعلق اس کے شہر، قصبہ یا دیہات کی لجنہ یہ فیصلہ کرے گی کہ یہ بچی ہماری بچیوں میں بہترین بچی ہے اور یہ فیصلہ صرف مقامی لجنہ کی صدر کا نہیں ہوگا بلکہ ان کی کم از کم تین عہد یدار جن میں ایک سیکرٹری ناصرات بھی ہوں گی یہ فیصلہ کریں گی۔کسی بچی کو بہترین بچی قرار دئیے جانے کے صرف یہی بات مدنظر نہیں ہوگی کہ اس نے ناصرات کا نصاب ختم کر لیا ہے۔امتحان میں شرکت کی ہے بلکہ اس کے اخلاق کو بھی مدنظر رکھا جائے گا یعنی اس بچی کی تعلیمی کارروائی اس کے اعلیٰ اخلاق اور اس کے عمل کو دیکھ کر یہ انعام دیا جائے گا اور جب اس مرحلہ پر ہم کامیابی حاصل کر لیں گے تو سارے پاکستان کی بہترین ناصرات کا مقابلہ کروا کے ایک گولڈ میڈل اس بچی کو دیا جایا کرے گا جو سارے پاکستان میں اول قرار دی جائے گی اس کے لئے عنقریب قوانین بنا کر تمام لجنات کو بھجوا دیئے جائیں گے۔اس سلسلہ میں سیکرٹریان ناصرات اپنی رائے بھجوائیں۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکز یہ نے ناصرات کے لئے پانچ اہم نکات مقرر فرمائے جن پر آئندہ ناصرات کی عہدیدار بچیوں کو عمل کروائیں گی۔1۔سب سے پہلے آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ سکھانے کی طرف توجہ دلائی آپ نے فرمایا کہ اگر بارہ سال کی عمر میں ناصرات ترجمہ شروع کریں اور باقاعدگی سے پڑھیں تو پندرہ سال کی عمر تک کم از کم پانچ سیپارے ترجمہ سے پڑھ سکتی ہیں۔اس طرح آئندہ لجنہ کی ممبرات زیادہ آسانی سے ترجمہ قرآن سیکھ سکیں گی۔2- ناصرات کی عمر میں بچیوں کو پردے کی طرف توجہ دلانی چاہئے اور عمر اور اُٹھان کے