خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 302 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 302

خطابات مریم 302 خطابات رہنے والوں کو قربانیاں بھی دوسروں سے زیادہ کرنی پڑتی ہیں جو قربانیاں مکہ اور مدینہ والوں کو کرنی پڑیں وہ کسی اور جگہ کے رہنے والوں کو نہیں کرنی پڑیں مگر جو انعامات مہاجرین اور انصار کو ملے وہ بھی کسی اور کو نہیں ملے۔یہ خیال کرنا کہ مکہ اور مدینہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے یونہی انعام دے دیا ہوگا ایک پاگل پن کی بات ہے انہوں نے اس قدر قربانیاں کیں کہ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے انہوں نے اپنے آپ کو فنا کر دیا اُنہوں نے خدا کے لئے اپنے آپ کو خاک میں ملایا اور پھر اپنی خاک کو بھی اس کی رضا کے حصول کیلئے اُڑا دیا تب انہیں انعامات حاصل ہوئے تب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مستحق ہوئے۔پس جماعت لاہور کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔اپنے اندر تغیر پیدا کرے اپنے اخلاص اور اپنی نیکی میں ترقی کرے اور خدا تعالیٰ کی محبت اپنے قلوب میں پیدا کرے“۔(الفضل 21 جون 1944ء) جماعت کی ترقی کیلئے سب سے بڑا اور ضروری امر جماعت میں وحدت کی رُوح کا قائم رہنا ہے۔حضرت مصلح موعود نے 1922ء میں عورتوں کی تربیت کی غرض سے جب لجنہ اماءاللہ قائم کی تو اس کے لئے چند بنیادی اصول مقرر فرمائے۔ان میں سے سب سے اہم اصل یہی بیان فرمایا کہ:۔اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعت میں وحدت کی روح قائم رکھنے کیلئے جو بھی خلیفہ وقت ہو اس کی تیار کردہ سکیم کے مطابق اور اس کی ترقی کو مدنظر رکھ کر تمام کارروائیاں ہوں۔(الازھار لذوات الخمار صفحہ 53) حضور نے مزید فرمایا:۔اس امر کی ضرورت ہے کہ تم اتحاد جماعت کو بڑھانے کیلئے ایسی ہی کوشاں رہو جیسے کہ ہر مسلمان کا فرض۔قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پھر حضرت اقدس نے مقرر فرمایا ہے اور اس کے لئے ہر ایک قربانی کو تیار رہو۔الازھار لذوات الخمار صفحہ 53) پس ہمیشہ یہ نصب العین مد نظر رہے کہ جماعت کی وحدت پر ہر چیز کو قربان کر دینا ہے۔اپنی