خطابات مریم (جلد دوم) — Page 291
خطابات مریم 291 خطابات درخت کا اپنا حصہ نہیں کہا جاسکتا۔پس حضرت اماں جان ہمارے اور حضرت اقدس ) کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھیں اور یہ واسطہ ان کی وفات سے ختم ہو گیا۔“ حضرت اماں جان کے پیارے بھائی حضرت میر محمد اسمعیل صاحب نے آپ کی سیرت کے متعلق چند الفاظ میں جو بیان کیا ہے وہ اس قابل ہے کہ آپ کے گوش گزار کیا جائے وہ صفات جو ہر احمدی خاتون میں ہونی چاہئیں۔آپ نے فرمایا: 1 آپ بہت صدقہ خیرات کر نیوالی۔2 ہر خیر میں شریک ہو نیوالی۔3 اول وقت اور پوری توجہ اور انہماک سے پنجوقتہ نماز ادا کر نیوالی۔صحت اور قوت کے زمانہ میں تہجد کا التزام رکھتی تھیں۔5 خدا کے خوف سے معمور 6 صفائی پسند۔7 شاعر با مذاق۔8 مخصوص زنانہ جہالت کی باتوں سے سے دور۔و گھر کی عمدہ منتظم۔10 اولاد پر از حد شفیق۔11 خاوند کی فرمانبردار۔12 کینہ نہ رکھنے والی۔13 عورتوں کا مشہور وصف ان کی تر یا ہٹ ہے مگر میں نے حضرت ممدوحہ کو اس عیب سے ہمیشہ پاک اور بری دیکھا۔“ حضرت اقدس کی نظروں میں آپ کا بہت بلند مقام تھا۔اور آپ حضرت اماں جان کو شعائر اللہ میں سے سمجھتے تھے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت اماں جان نے مکان میں کوئی تبدیلی کروانی چاہی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اس کی مخالفت کی کہ اس طرح کرنے سے صحن تنگ ہو جائے گا اور ہوا نہیں آئے گی اس پر