خطابات مریم (جلد دوم) — Page 290
خطابات مریم 290 خطابات کرتی تھیں۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ ” مجھے خوب یاد ہے اس وقت تو بُر امحسوس ہوتا تھا لیکن اب اپنے زائد علم کے ماتحت اس سے مزا آتا ہے اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی مگر یہ خدا کا فضل تھا جب سے ہوش سنبھالا حضرت اقدس ) پر کامل یقین اور ایمان تھا اگر اس وقت والدہ صاحبہ کوئی ایسی بات کرتیں جو میرے نزدیک حضرت (اقدس) کی شان کے شایان نہ ہوتی تو میں یہ نہ دیکھتا کہ ان کا میاں بیوی کا تعلق ہے اور میرا ان کا ماں بچہ کا تعلق ہے بلکہ میرے سامنے پیر اور مرید کا تعلق ہوتا حالانکہ میں کبھی حضرت اقدس ) سے کچھ نہ مانگتا تھا والدہ صاحبہ ہی میری ضروریات کا خیال رکھتی تھی باوجود اس کے کہ والدہ صاحبہ کی طرف سے کوئی بات ہوتی تو مجھے گراں گزرتی مثلاً خدا کے فضل کا ذکر ہوتا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی۔اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا گراں گزرتا میں اسے حضرت۔۔۔( اقدس) کی بے ادبی سمجھتا لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے اور حضرت۔۔۔( اقدس ) بھی اس فقرہ سے لذت پاتے کیونکہ وہ برکت اس الہام کے ماتحت پائی کہ یا ادم اسکن انت وزوجك الجنّة پہلا آدم تو نکاح کے بعد جنت سے نکالا گیا مگر اس زمانہ کے آدم کے لئے نکاح جنت کا موجب بنایا گیا چنانچہ نکاح کے بعد ہی آپ کی ماموریت کا سلسلہ جاری ہوا خدا تعالیٰ نے بڑی عظیم الشان پیشگوئیاں کرائیں اور آپ کے ذریعہ دنیا میں نو ر نازل کیا اور اس طرح آپ کی جنت وسیع ہوتی گئی۔“ یہ با برکت وجود جماعت پر پون صدی تک ابر رحمت کی طرح برستا رہا اور آخر 20 را پریل 1952ء کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب ساڑھے گیارہ بجے ربوہ میں اس جہان فانی سے رخصت ہو کر خالق حقیقی سے جاملا۔حضرت مصلح موعود نے 1952ء کی تقریر میں آپ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔اس سال احمدیت کی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہوا ہے اور وہ ہے حضرت۔۔۔اماں جان ) کی وفات۔ان کا وجود ہمارے اور حضرت اقدس) کے درمیان میں ایک زنجیر کی طرح تھا اولاد کے ذریعہ بھی ایک تعلق اور واسطہ ہوتا ہے مگر وہ اور طرح کا ہوتا ہے اولا د کو ہم ایک درخت کا پھول تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے اس 66