خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 288 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 288

خطابات مریم 288 خطابات میں نے نہیں۔نصیحت کرنے کا انداز بڑا دلنشین تھا۔میری شادی کے وقت عمر کم تھی۔بہت سی باتوں کی سمجھ ہی نہیں تھی۔بڑے پیار سے کہا کرتی تھیں دیکھو اس طرح رہا کرویوں کپڑے پہنا کرومیاں کو فلاں فلاں بات پسند ہے فلاں نا پسند۔مجھے ماں سے بڑھ کر محبت دی۔پیار میں اکثر کہا کرتی تھیں ماں بیٹی دو ذات پھوپھی بھیجی ایک ذات۔حضرت اماں جان کے متعلق حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی ایک تحریر سناتی ہوں جو ان کے مقام اور اخلاق پر گہری روشنی ڈالتی ہے آپ نے فرمایا۔اس مبارک وجود کے لئے حضرت۔۔۔( اقدس) نے جو مصرع تحریر فرما دیا وہی ایسا جامع ہے کہ اس سے بڑھکر تعریف نہیں ہو سکتی یعنی چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے اللہ تعالیٰ کا کسی کو چن لینا کیا چیز ہے۔اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس محسن خدا نے کیا کیا جو ہر اس روح میں رکھ دیئے ہونگے جس کو اس نے اپنے مسیحا کے لئے تخلیق کیا میں ان کی تعریف اس لئے نہیں کرونگی کہ وہ میری والدہ تھیں بلکہ اس نظر سے کہ وہ فی زمانہ مومنوں کی ماں ہیں اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس امر کی گواہی ہمیشہ دونگی کہ وہ اس منصب کے قابل ہیں خدا نے میری والدہ پر فضل و احسان فرمایا کہ ان کو اپنے مسیحا کے لئے چن لیا مگر انہوں نے بھی خدا کی ہی نصرت کے ساتھ دکھا دیا کہ وہ اس کی اہل ہیں۔اور اس انعام اور احسان خداوندی کی بے قدری و ناشکری ان سے کبھی ظہور میں نہیں آئی اور خدا کا شکر ہے کہ یہ بارانِ رحمت بے جگہ نہیں برسا بلکہ بارآور زمین اس سے فیض یاب ہوئی۔آپ کی چند خصوصیات اور خو بیوں کا ذکر کر رہی ہوں۔حضرت اقدس کے زمانہ تک بے شک ہمارے دلوں پر آپ کی شفقت کا اثر والدہ صاحبہ سے زیادہ تھا مگر آپ کے بعد آپ کو دنیا کی بہترین شفیق ماں پایا۔مجھے آپ کا سختی کرنا کبھی یاد نہیں پھر بھی آپ کا خاص رعب تھا اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت اقدس سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے اور مجھے یاد ہے کہ حضرت اقدس کی حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد قد رو محبت کر نیکی وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں بھی رہا کرتی تھی۔آخر میں بار بار وفات کے متعلق الہامات ہوئے تو ان دنوں بہت غمگین