خطابات مریم (جلد دوم) — Page 286
خطابات مریم 286 خطابات ”اے میرے پیارے خدا یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی روایت ہے کہ ایک اور بات جو میں نے سنی اور یا درہی وہ یہ ہے کہ آپ کے جسدِ مبارک کے پاس بیٹھے ہوئے میں سامنے پٹی کے پاس زمین پر بیٹھی تھی۔بڑے درد سے بڑے جوش سے آپ نے فرمایا تھا کہ :۔” میرے بچو! یہ نہ سمجھنا کہ ہمارے باپ نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا وہ تمہارے لئے بہت بڑا خزانہ دعاؤں کا آسمان پر چھوڑ گیا ہے جو ہمیشہ وقتا فوقتا ئم کو ملتا رہے گا۔“ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مزید فرماتی ہیں کہ : پھر تیاری سامان کا باندھنا ، چلنا ، قافلہ سالار راہ میں چھوڑ کر اپنے سب - پیارے کے پاس جا چکا تھا اس کے یتیم بچے۔اس کی مقدس و مبارک بیوی۔اس کی عاشق جماعت سب بظاہر بے سہارے ، بے سروسامانوں کی طرح ششدر حیران تھے مگر دل کو اس کی باتیں اس کی دعائیں اس کی تسلیاں یاد آ کر اس کی اللہ تعالیٰ سے خاص محبت جو دلوں میں بٹھا گیا تھا جو ایمان وہ سکھا گیا تھا تسکین بخشتی تھیں کہ اس کا سچے وعدوں والا خدا ہمارے ساتھ ہے۔غم جدائی کے سوا اور ہمیں کسی قسم کا غم و فکر پاس نہیں آنے دینا چاہئے واقعی یہی کیفیت تھی اور خصوصاً حضرت اماں جان کی رات بھر تڑپ نے صابرانہ دعاؤں کی طرف اب رخ بدل لیا تھا اسباب رکھتے وقت حضرت اماں جان نے فرمایا ( میں پاس کھڑی تھی آپ ٹرنک بند کر رہی تھیں ) کہ کہتے تھے تین امتحان ہوں گے تمہارے دو ہو چکے (مبارک احمد کی وفات اور حضرت اقدس کا وصال ) اب تیسرا باقی ہے۔یہ لفظ سن کر مجھے ہمیشہ و ہم رہتا کہ اس وقت چھوٹے بھائی صاحب کے کپڑے رکھ رہی تھیں ان کا غم نہ پہنچے۔مگر آخر وہ وقت آیا ہجرت قادیان سے ہونا اور حضرت اماں جان کو یہ صدمہ بہت سخت پہنچنا اور مجھے سب یاد آ گیا اور یقین ہوا کہ وہ تیسرا امتحان حضرت اقدس کا فرمودہ یہی تھا۔( تقریر حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ماہنامہ مصباح سالنامہ 1980ء)