خطابات مریم (جلد دوم) — Page 285
خطابات مریم 285 خطابات بیویوں کا مال ان کا اپنا مال ہوتا ہے قرض کے طور پر لیا۔خلافت کا احترام حضور کے وصال کے بعد جب قدرت ثانیہ کا قیام ہوا تو آپ نے حضرت خلیفہ اول کا اسی طرح احترام کیا جیسا کرنا چاہیے تھا حضرت اقدس کے وصال کے بعد جب انتخاب ہوا تو آپ کے عالی مقام کے مد نظر آپ سے بھی مشورہ لیا گیا۔حضرت مصلح موعود اندر تشریف لائے اور حضرت اماں جان سے کہا کہ دفن ہونے سے پہلے خلیفہ منتخب ہونا ضروری ہے سب کی رائے حضرت مولوی صاحب کے لئے ہے۔خواجہ صاحب نے مجھے بھیجا ہے کہ حضرت اماں جان سے بھی پوچھ آؤ آیا یہ انتخاب ان کو بھی پسند ہے۔حضرت اماں جان نے فرمایا ”بہت بہتر ہے۔یہی مناسب ہے“ حضرت مولوی صاحب سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اماں جان نے مجھے کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے چاہتی ہوں کہ آپ کا کوئی کام کروں۔حضرت مولوی صاحب نے ایک طالبعلم کی پھٹی ہوئی رضا ئی مرمت کیلئے بھجوا دی جسے حضرت اماں جان نے اپنے ہاتھ سے دھو کر مرمت کر کے واپس بھجوایا۔گو حضرت مصلح موعود آپ کے بیٹے تھے اور آپ کی بے حد عزت کرتے تھے لیکن آپ اُن کے مقام کا بہت ادب اور احترام فرماتی تھیں۔سب سے بڑا امتحان کا وقت آپ کے لئے حضرت اقدس کا وصال تھا۔حضرت اماں جان نے اس وقت جو نمونہ دکھایا اس سے آپ کے صبر و رضا اور ایمان کا کسی قدر اندازہ ہو سکتا ہے۔سید محمد حسین شاہ صاحب کی روایت ہے کہ :۔آپ برقع پہنے خدمت میں حاضر ر ہیں اور کبھی سجدہ میں گر جاتیں اور بار بار یہی کہتیں کہ اے حی و قیوم خدا اے میرے پیارے خدا۔اے قادر مطلق خدا۔اے مُردوں کے زندہ کرنے والے خدا تو ہماری مدد کر۔اے وحدہ لاشریک خدا اے خدا میرے گناہوں کو بخش میں گناہگار ہوں اے میرے مولیٰ میری زندگی بھی تو ان کو دیدے میری زندگی کس کام کی ہے۔یہ تو دین کی خدمت کرتے ہیں۔بار بار یہی الفاظ آپ کی زبان پر تھے کسی قسم کی جزع فزع آپ نے نہیں فرمائی اور آخر میں جب کہ انجام بہت قریب تھا آپ نے فرمایا۔