خطابات مریم (جلد دوم) — Page 284
خطابات مریم 284 خطابات حسرت و ندامت ہمارے حصہ میں وہ اب بھی ہمارے لئے تکلیف اٹھاتی ہیں اور ہم اب بھی کئی طرح ان پر بار ہیں۔دنیا میں لوگ یا مال سے اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں یا پھر جسم سے خدمت کرتے ہیں کم سے کم میرے پاس دونوں نہیں مال نہیں که خدمت کرسکوں یا شاید احساس نہیں کہ بچی قربانی دے سکوں۔جسم ہے مگر کیسا جسم؟ صبح سے شام تک جس کو ایک نہ ختم ہونے والے کام میں مشغول ہونا پڑتا ہے۔بلکہ راتوں کو بھی۔پس بار منت کے اُٹھانے کے سوا اور کوئی صورت نہیں۔میں جب سوچتا ہوں حسرت و ندامت کے آنسو بہاتا ہوں۔“ (الفضل 4 / جولائی 1924ء) مجھے یاد ہے کہ تحریک جدید جاری ہوئی اور حضرت مصلح موعود نومبر میں ہر سال تحریک کا اعلان فرمایا کرتے تھے۔قادیان میں جمعہ پر جانے کے لئے حضرت اماں جان کے گھر میں سے گزر کر جایا کرتے تھے۔حضرت اماں جان نے جب آپ گزر کر جا رہے ہوتے آواز دے کر 66 کہنا ” میاں آج آپ نے تحریک جدید کا اعلان کرنا ہے میری طرف سے اتنا وعد ہ لکھ لیں۔‘“ منارة امسیح کے متعلق حضرت اقدس نے 28 رمئی 1900ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں منارہ کی برکات اور ثمرات کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔اس کی تعمیر کا اندازہ دس ہزار روپے کیا گیا تھا۔آپ نے اس رقم کے پورا کرنے کے لئے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں اپنی جماعت کے خالص گروہ کو مخاطب فرمایا اور فرمایا کہ جماعت کے ایک سو ایک خدام ایک ایک سوروپے ادا کریں۔سلسلہ کی تاریخ میں یہ پہلی خاص تحریک تھی اس تحریک میں حضرت اماں جان نے شاندار قربانی کی آپ نے اس چندہ کا 10 / 1 ادا کیا اور یہ رقم اپنی ایک جائیداد واقع دہلی کو فروخت کر کے ادا کی اسی طرح ایک اور واقعہ ہے حضرت اقدس کو 1898ء کی پہلی ششماہی کے آخر میں بعض اہم دینی ضروریات کے لئے رقم کی ضرورت پڑی آپ نے فرمایا ”باہر سے قرضہ لینے کی کیا ضرورت ہے میرے پاس ایک ہزار نقد ہے اور کچھ زیورات ہیں وہ آپ لے لیں۔‘‘ آپ نے فرمایا میں بطور قرضہ لے لیتا ہوں اور اس کے عوض باغ رہن کر دیتا ہوں گو حضرت اماں جان اس رقم کو پیش کر رہی تھیں مگر حضور نے جماعت کو سبق دینے کے لئے کہ