خطابات مریم (جلد دوم) — Page 283
خطابات مریم 283 خطابات پکاتے دیکھا ہوگا اور حضرت اماں جان کے ساتھ کھانا بھی کھایا ہوگا۔بہت با سلیقہ اور باذوق تھیں سادہ مزاج مگر خوش پوش تھیں۔خوشبو اور پھولوں سے عشق تھا بہت پاکیزہ طبیعت بے حد صاف ستھری رہنے والی تھیں کبھی کسی نے ان کو خستہ حالت میں نہیں دیکھا۔شکوہ اور چغلی سے آپ کو از حد نفرت تھی نہ سننا پسند کرتی تھیں نہ خود کسی سے شکوہ کیا۔انتہائی ہمدرد غرباء محتاجوں ، یتامی کا خیال رکھنے والی صدقہ وخیرات کثرت سے کرنے والی۔اپنے ہاتھ سے لحاف سی کر تقسیم کیا کرتی تھیں۔بغیر مانگے گھر بیٹھے جس کے متعلق علم ہوتا کہ ضرورت مند ہے کچھ رقم بھجوا دیا کرتیں۔کئی یتیم بچوں کو پالا پرورش کی ، شادیاں کیں ، گھر بنا کر دیئے ، اپنے بچوں کی طرح محبت کی ، ان کے وقار کو قائم رکھا ، جماعت کی خواتین سے ملنا ان کے گھروں میں جانا ، بیمار پرسی کرنا ان کے گھروں میں جا کر محبت اور بے تکلفی سے پیش آنا خود خواہش کر کے کھا لینا جس سے خود بھی مسرت محسوس کرتی تھیں اور جن کے گھروں میں جاتی تھیں وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔سیر کو باقاعدہ جاتی تھیں سوائے کمزوری کے ایام کے آپ کا یہ طریق جاری رہا۔سلسلہ کی ہر مالی تحریک میں سب سے پہلے بشاشت سے حصہ لیتی تھیں۔حضرت مصلح موعود نے اخبار الفضل کا اجراء کیا تو آپ کو بہت فکر تھی کہ اس کے جاری کرنے کے لئے کہاں سے رقم آئے گی۔حضرت اُمّم ناصر مرحومہ کے علاوہ حضرت اماں جان نے بھی اس کے لئے بہت قربانی دی جو آپ حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں ہی سنئے آپ نے فرمایا :۔دوسری تحریک اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان ) کے دل میں پیدا کی اور آپ نے اپنی ایک زمین جو قریباً ایک ہزار روپے میں بکی الفضل کے لئے دے دی مائیں دنیا میں خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں مگر ہماری والدہ کو ایک خصوصیت حاصل ہے اور وہ یہ کہ احسان صرف ان کے حصہ میں آیا ہے اور احسان مندی صرف ہمارے حصہ میں آئی ہے۔دوسری ماؤں کے بچے بڑے ہو کر ان کی خدمت کرتے ہیں مگر ہمیں یا تو اس کی تو فیق ہی نہیں ملی کہ ان کی خدمت کر سکیں یا شکر گزار دل ہی نہیں ملے جو ان کا شکر یہ ادا کر سکیں بہر حال جو کچھ بھی ہو اب تک احسان کرنا انہی کے حصہ میں ہے اور