خطابات مریم (جلد دوم) — Page 5
خطابات مریم 5 تحریرات جو زیر ہدایت حضرت اُمّ طاہر احمد صاحب لجنہ دہلی کا انتخاب ہوا تو خاکسار کو لجنہ اماءاللہ دہلی کی خدمت کا موقع عطا ہوا جو میری کسی استعداد کی بنیاد پر نہ تھا۔محض میرے آقا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور میری محسنہ حضرت اُم طاہر کے حسن ظن کا نتیجہ تھا۔افسوس صد افسوس کہ میں اپنی قابلِ فخر محسنہ کے جلد ہی طویل علالت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زیادہ مستفید نہ ہوسکی۔اللہ تعالیٰ ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں فردوس بریں میں اُن پر نازل فرمائے اور اُن کی اولاد کا ہر لمحہ حامی و ناصر ہو کر اپنے فضلوں کا جاذب بنائے۔مرحومہ کی وفات حسرت آیات کے کچھ دنوں بعد حضور دہلی کے جلسہ مصلح موعود کے موقعہ پر رونق افروز ہوئے تو اپنے کانوں سے خاکسار نے مصلح موعود کا اعلان حضور کے اپنے الفاظ مبارک میں سننے کا شرف پایا۔آپ کو یاد ہوگا کہ کس قدر کثیر تعداد میں احمدی اور غیر احمدی مستورات شریک ہوئی تھیں۔ایک بڑی تعداد مہمان بہنوں کی تھی اس وقت اپنی ذمہ داری کے فرائض کی اہمیت کو سوچتے ہوئے دل ضرور گھبرایا لیکن اس کا رساز ہستی نے مصلح موعود کی برکت سے جماعت احمدیہ کے حسن انتظام سے ہر عورت اور ہر بچی کو بحفاظت اپنے گھروں تک پہنچا دیا۔ہمارے قمر الانبیاء حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے بہ نفس نفیس مستورات کی سواری کا انتظام فرمایا۔خاکسار نے بھی اس وقت جب کہ سب بہنیں جلسہ گاہ سے روانہ ہو چکیں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی کوٹھی کا رُخ کیا جہاں حضرت مصلح موعود کی رہائش کا انتظام تھا۔وہاں مستورات خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بخیریت پا کر سکون کے ساتھ گھر پہنچی جہاں گھر کے سامنے سڑک پر میرے شوہر چوہدری بشیر احمد صاحب کے بھائی بے حد متفکر انتظار میں کھڑے تھے۔غالباً اس واقعہ کے دو تین روز بعد حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ صدر لجنہ کی صدارت میں احمدی مستورات دہلی کا جلسہ میرے غریب خانہ پر منعقد ہوا جس میں آپ نے (مراد عاجزہ ) لجنہ کے فرائض پر تقریر فرمائی۔تقسیم پاکستان کا وقت بھولنے والا زمانہ نہیں جب کہ جماعت احمد یہ اپنے آقا کے حکم کی تعمیل میں پاکستان جانے کی تیاریاں کر رہی تھی تو اس جماعت کی عور تیں بھی لجنہ اماءاللہ دہلی کا