خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 4 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 4

خطابات مریم 4 تحریرات ہوا جو احمدی خاندان میں شادی ہونے کی برکت تھی۔مجھے بیعت کرنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے اس لجنہ کی صدر محترمہ سیدہ فضیلت صاحبہ کی تحریک پر عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا کرے۔آمین 1931 ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں اپنے شوہر چوہدری بشیر احمد صاحب کی ملازمت کے سلسلہ میں تعیناتی پر لجنہ اماء اللہ بھیرہ کے قائم کرنے کی توفیق پائی جو اس مبارک سرزمین کی برکت تھی جس سے وہ نور پیدا ہوا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو پھیلانے کیلئے اسم با مسمی ہو کر مسند خلافت کی رونق بنا۔اللہ تعالیٰ ہزاروں ہزار رحمتیں دوسرے جہان میں بھی اپنے اس پاک بندے پر فر ما تار ہے۔آمین اللھم آمین بھیرہ میں لجنہ کے قیام کو چند ماہ گزرنے پر چوہدری صاحب کے تبادلہ کی وجہ سے مظفر گڑھ جانا ہوا اُس وقت وہاں احمدیوں کی تعداد بہت کم ہونے کی وجہ سے لجنہ اماءاللہ تو کجا جماعت کا ابھی کوئی انتظام نہیں تھا۔حتی کہ خاکسا رہنے ایک رسید بک حاصل کر کے احمدی بھائیوں سے چندہ وصول کرنا شروع کیا۔عید کی نماز اور زنانہ جلسہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اپنے مکان پر انتظام کرنے کی توفیق پائی۔کم و بیش عرصہ ڈیڑھ سال گزرنے پر تبادلہ کے سلسلہ میں جگا دھری ضلع انبالہ گئی۔جس کی آبادی میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ان دنوں ایک حق کے متلاشی ڈاکٹر صوفی صاحب نے بیعت کی توفیق پائی جن کو تبلیغ کرنے میں چوہدری صاحب کو بھی خدا نے حصہ عطا فرمایا۔عید کی نماز کیلئے چوہدری صاحب سہارن پور جایا کرتے تھے اس جگہ بھی زنانہ جلسہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و پیشوایان مذاہب کا انتظام اپنے ہی غریب خانہ پر کرتی رہی۔عیسائی مشن سکول کی پرنسپل و دیگر ہندو بہنوں سے اکثر مواقع تبلیغ کے نصیب ہوتے رہے۔1943ء میں جب حضور ہماری روح رواں لجنہ اماء اللہ محترمہ سیدہ ام طاہر صاحبہ اور صاحبزادی ناصرہ بیگم کے علاج کی غرض سے دہلی تشریف فرما ہوئے تو حسن اتفاق سے خاکسار بھی وہیں تھی اور بفضل خدا حتی الوسع لجنہ اماء اللہ دہلی کے کاموں میں حصہ لینے میں کوشاں تھی۔ایک روز جب کہ میں سیدہ ام طاہر مرحومہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور لجنہ اماءاللہ دہلی کا ذکر آیا تو حضور نے عاجزہ کے متعلق استفسار فرمایا کہ لجنہ میں کیا کام کرتی ہے؟ غرضیکہ اس موقعہ پر