خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 256 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 256

خطابات مریم 256 خطابات دعا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شرط نہیں کرنی چاہئے۔ایک دفعہ حضور کو کسی خاتون کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ وہ کہتی ہے کہ اگر میر افلاں فلاں کام ہو جائے تو میرا سب جان و مال آپ پر قربان ہے۔حضرت نے فرمایا کہ:۔” خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کی شرط نہیں کرنی چاہئے اور نہ خدا تعالیٰ رشوت چاہتا ہے ہم بھی دعا کریں گے اور اُن کو بھی چاہئے کہ بعجز وانکسار سے اس کی بارگاہ میں دعا کریں۔حضور نے ایک مجلس میں فرمایا :۔دعا کی قبولیت میں تا خیر ڈالنے والے یا دعا کے ثمرات سے محروم کرنے والے بعض مکروہات ہوتے ہیں جن سے انسان کو بچنا لازم ہے“۔یہی وہ مضمون ہے جو قرآن مجید میں یوں بیان ہوا ہے کہ قال لا قتلنّكَ ، قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقين (مائده: 28) یعنی اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعا قبول کرتا ہے۔متقی کون ہیں؟ جو اپنے آپ کو مکروہات دنیا سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں نا پسندیدہ ہو۔پس قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ انسان سے ایسا کوئی فعل سرزد نہ ہو جو اس کی نظر میں نا پسندیدہ ہو۔تقویٰ کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ متقی کے معنی یہ نہیں کہ وہ بڑا نیک ہے متقی کے معنی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنالے جو اپنے کو ہر بُرائی سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگار ہے۔ایسی تدابیر اختیار کرے کہ گناہ کے کنارہ تک نہ پہنچے۔حضور فرماتے ہیں :۔تدابیر انسان کو ظاہری گناہ سے بچاتی ہیں لیکن ایک کشمکش اندر قلب میں باقی رہ جاتی ہے اور دل ان مکروہات کی طرف ڈانواں ڈول ہوتا رہتا ہے۔اُن سے نجات پانے کے لئے دعا کام آتی ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 568) پھر حضور فرماتے ہیں :۔تد بیر اور دعا دونوں کا پورا حق ادا کرنا چاہئے۔تدبیر کر کے سوچے اور غور کرے کہ میں کیا شے ہوں فضل ہمیشہ خدا کی طرف سے آتا ہے۔ہزار تد بیر کرو ہرگز کام نہ