خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 255 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 255

خطابات مریم 255 خطابات ولنبلو تكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ (البقرة : 156) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک مقام دعا کا نہیں ہوتا۔نَبْلُوَنَّكُمْ کے موقع پر انا لله وانا اليو رُجِعُونَ (البقرة: 157) کہنا پڑے گا۔یہ مقام صبر اور رضا کے ہوتے ہیں۔لوگ ایسے موقع پر دھو کہ کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا کیوں قبول نہیں ہوتی۔ان کا خیال ہے کہ خدا ہماری مٹھی میں ہے جب چاہیں گے منوا لیں گے۔بھلا امام حسین علیہ السلام پر جو ابتلا آیا تو کیا انہوں نے دعا نہ مانگی ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدر بچے فوت ہوئے تو کیا آپ نے دعا نہ کی ہوگی۔بات یہ ہے کہ یہ مقام صبر اور رضا کے ہوتے ہیں“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 443) پھر مسلمان اس غلط فہمی کا بھی شکار ہوئے۔دعا کے ساتھ ساتھ تدابیر کو اختیار نہ کیا تقدیر پر اتنا بھروسا کیا کہ جد و جہد ہی چھوڑ دی۔حالانکہ دعا کے ساتھ تدبیر اختیار کرنا دعا کے لوازمات میں سے ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ والَّذِينَ جَاهَدُوا فينا لنهدينهم سبلنا العنکبوت: 70) جو ہم سے ملنے کی کوشش میں لگا رہے گا ہم اس کے لئے راہیں کھول دیں گے خود اپنے ملنے کے راستے بتائیں گے گویا ادْعُوني استجب لکم میں تاکید فرمائی کہ مجھ سے مانگو ہر حالت میں مانگو اور والذين جاهدوا فينا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا میں تاکید کی کہ مقصد حاصل کرنے کے لئے منزل تک پہنچنے کیلئے برابر کوشش میں لگے رہنا تدبیریں اختیار کرنی ہوں گی۔اسی مضمون کو حضور نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ دعا تدبیر ہے اور تد بیر دعا ہے“۔ایک شرط دعا کی یہ بھی ہے کہ دعا مانگنے سے تھکے نہیں۔مایوس کبھی نہ ہو۔دعاؤں میں لگا رہے کیونکہ دعا صرف لفظوں کا نام نہیں بلکہ اصل میں ایک موت ہے کہ انسان سوز وگداز میں اپنی حالت موت تک پہنچا دے۔حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق سے دعا انتہا کو پہنچے تو وہ قبول ہو جاتی ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ تمہیں سال تک دعا قبول نہ ہوئی۔تمیں سال بعد الہام ہوا کہ تمیں سال کی ساری دعائیں قبول ہوگئیں۔تو اللہ تعالیٰ سے کبھی نا اُمید نہیں ہونا چاہئے۔