خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 3 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 3

خطابات مریم 3 تحریرات یارانِ تیز گام نے محمل کو جالیا 1962ء میں جب میں نے تاریخ لجنہ اماءاللہ کی تدوین کا کام شروع کیا تو میں نے بہت سی پرانی کا رکنات کو خطوط لکھے کہ انہوں نے کب لجنہ اماءاللہ کی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور کہاں کہاں کام کیا؟ اور اعلان بھی کیا۔انہیں کارکنات میں سے ایک احمدہ بیگم، بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صاحب بھی تھیں جن کی کچھ عرصہ گزرا ، وفات ہوئی ہے۔آپ بے حد مخلص اور جذ بہ کے ساتھ کام کرنے والی خاتون تھیں۔ظاہری دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے آپ کی تعلیم معمولی تھی مگر جو کچھ سنتیں ، مشاہدہ کرتیں اور مطالعہ کرتی تھیں اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھا تیں اور دوسروں تک پہنچاتیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے انہوں نے میرا اعلان پڑھ کر مجھے ایک خط لکھا جس میں لجنہ اماءاللہ کے ساتھ اپنی زندگی کے ابتدائی واقعات درج کئے وہ خط میرے پاس محفوظ ہے۔انشاء اللہ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد چہارم میں تفصیل سے تذکرہ آئے گا۔ذیل میں ان کے خودنوشت حالات ان کے ہی الفاظ میں تحریر کرتی ہوں۔مؤرخہ 17 / جنوری 1962ء کے الفضل اخبار میں’احمدی مستورات متوجہ ہوں“ کا عنوان پڑھا چونکہ بفضل خدا اپنے آقا مصلح موعود کی برکت اور نگاہ کرم کی بدولت خاکسار بھی لجنہ کی خدمات کی خواہش رکھتی ہے بلکہ حتی الوسع کوشاں رہتی ہے اس لئے ممکن ہے کہ آپ کے حکم کی تعمیل اس عاجزہ پر بھی فرض ہوا گر مندرجہ ذیل الفاظ اس غرض کو پورا کرنے میں مد ہوں تو میری خوش بختی ہے۔دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ صحیح طور پر خدمت دین کی توفیق عطا کرے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس نیک ارادے کو جلد از جلد تکمیل دے کر احمدی مستورات پر ایک اور احسان عظیم کرے کہ وہ لجنہ اماءاللہ کی تاریخ کا علم حاصل کر سکیں۔اصل حالات تو وہ محترمات سپر د قلم فرمائیں گی جو لجنہ کے قیام کے وقت مرکز سے تعلق رکھتی رہیں۔میرا تعلق لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ سے شادی کے چند سال بعد 1925ء یا 1926ء میں پیدا