خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 246 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 246

خطابات مریم 246 خطابات کبھی بھی اس سے بے وفائی نہ کریں۔اس کی محبت حاصل کرنے کی خاطر محمد رسول اللہ ﷺ کی کامل اطاعت کریں۔آپ کی سنت پر چلیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کے خلفاء نے جو ہماری ترقی کیلئے راہ عمل تجویز کی ہے اسے اختیار کریں۔اپنی اولاد کے دل میں قربانی کا جذبہ پیدا کریں اور انہیں تیار کریں آئندہ کی ذمہ داریوں کو اُٹھانے کے لئے پندرہویں صدی شروع ہونے والی ہے اور آٹھ سال بعد جماعت احمدیہ کے قیام پر بھی ایک صدی گزر جائے گی۔یہ آٹھ سال ہماری زندگی کے نازک سال ہیں اور ان آٹھ سالوں میں لجنہ کو احمدی بچیوں کی تعلیم اور تربیت پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ان کی دینی تعلیم پر ان کی تربیت پر۔آج جو ناصرات کی عمر میں داخل ہوئی ہے وہ آٹھ سال کے بعد ناصرات کی تربیت حاصل کر کے لجنہ اماءاللہ کی ممبر ہوگی۔اس لئے ناصرات الاحمدیہ کو ہر جگہ مستعد ہونا چاہئے۔ابھی تک تو ہر جگہ جہاں لجنہ ہے وہاں ناصرات کا قیام بھی نہیں ہوا۔اگر ہم چاہتی ہیں کہ غلبہ اسلام میں ہم بھی حصہ دار ہوں۔ہماری قربانیوں کا بھی حصہ ہو تو آپ کو ابھی سے اس کے لئے کام کرنا ہوگا۔دین اور قوم کی خاطر وقت دینا، دنیا کے عیش و عشرت کو دین کی خاطر قربان کرنا۔اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بغداد کی تباہی کا باعث گانا بجانا اور عیش وعشرت تھا۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں ہماری ذمہ داری ہونی چاہئے کہ اسلام کے باغ کی حفاظت کریں اور جس طرح ایک سمجھدار واقف مالی جب کوئی پودا جل جاتا ہے، خراب ہو جاتا ہے تو نیا پودا لگا دیتا ہے تا کہ پودوں کا تسلسل قائم رہے۔اسی طرح قربانیوں کے تسلسل کو قائم رکھنا ہمارا فرض ہے۔بڑی عورتیں جوان بچیاں سب میں یکساں روح قربانی ہونی چاہئے۔یکساں اخلاص کا جذبہ ہونا چاہئے۔وقف زندگی کی روح جماعت میں کم ہو رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جنہوں نے زندگی وقف کی ہے وہ بڑی قربانی کر رہے ہیں لیکن جس رفتار سے جماعت ترقی کر رہی ہے اس رفتار سے واقفین کی تعداد نہیں بڑھ رہی۔آخر یہ واقفین کہاں سے آنے ہیں خدا تعالیٰ کی جو بشارتیں ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان زندگی وقف کریں لیکن وہ واقفین آئیں گے کہاں سے۔آپ کی گودوں کے پالے جن کے دلوں میں آپ دین کی محبت پیدا کریں گی۔جن کے دلوں میں آپ قربانی کا جذبہ پیدا کریں گی جن کے دلوں میں دین کے