خطابات مریم (جلد دوم) — Page 229
خطابات مریم 229 خطابات اس کی پاکیزگی بیان کرنے میں بھی مشغول ہو جائیو (اور مسلمانوں کی تربیت میں جو کوتاہیاں ہوئی ہوں ان پر ) اس (خدا) سے پردہ ڈالنے کی دعا کیجیو وہ یقیناً اپنے بندہ کی طرف رحمت کے ساتھ لوٹ کر آنے والا ہے۔یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ جوں جوں لوگ اسلام میں کثرت سے داخل ہوں گے ان میں کمزوریاں پیدا ہوں گی اور جس وقت کوئی قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اس کے تنزل اور انحطاط کے آغاز کا بھی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آپ دعاؤں میں لگ جائیں اور اللہ تعالیٰ سے التجا کریں کہ وہ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی حفاظت کرے اور ان کی نصرت کرتا رہے بلکہ اسلام میں نئے داخل ہونے والوں کی بھی خود تربیت کا سامان کرے اور ایسی صورت پیدا کرے کہ تمام مسلمان ٹھوکر اور غلطیوں سے بچتے رہیں۔اس زمانہ میں غلبہ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تا آپ دنیا کو اسلام کا صحیح چہرہ دکھا ئیں۔اسلام پر غیر مسلموں کی طرف سے جو اعتراضات ہوتے ہیں ان کا دفاع کریں اور آپ کے ذریعہ سے اسلام کا پھر غلبہ ہو۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں جماعت ترقی کر رہی ہے ہر ملک میں احمدیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں تربیتی لحاظ سے کچھ کمزوریاں بھی واقع ہو رہی ہیں۔جب کسی کو منع کرو ایسا نہ کرو یا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا تو جواب ملتا ہے اس میں کیا حرج ہے۔یہ کام تو ایسے ہی دل خوش کر نے کو کیا تھا۔میری بہنو ! اصولی طور پر یا درکھیں کہ ہمارے لئے تعلیم کا سر چشمہ قرآن مجید ہے۔پھر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔پھر آپ کی احادیث ہیں اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے خلفاء اور آپ کے صحابہ صحابیات کا عمل ہے۔اگر کسی کام کا ثبوت آپ کو ان سب سے نہیں ملتا تو آپ کیوں کریں اس کام کو؟ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرماتے تھے۔ترجمہ : حلال بھی بیان ہو چکا ہے اور حرام بھی بیان ہو چکا ہے اور ان دونوں کے