خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 200 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 200

خطابات مریم 200 خطابات حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔باہم بخل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ۔قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں ایک توحید و محبت و اطاعت باری عزاسمہ دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور بنی نوع کی۔(روحانی خزائن جلد 3۔ازالہ اوہام صفحہ 550) پس ہر احمدی عورت کی زندگی کامل نمونہ ہونا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس قول کی کہ ایک طرف عبادت کے لحاظ سے وہ مکمل ہو۔قرآن جانتی ہو قرآن پر عمل ہو اور قرآن کی تعلیم کے مطابق بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو کسی کو دکھ نہ پہنچانے والی ہو بلکہ اس کے وجود سے اس کے اردگرد رہنے والے ہر لحاظ سے فائدہ اُٹھانے والے ہوں، دوسرے کو تکلیف پہنچانے کا سب سے بڑا باعث بدظنی ہے۔بدظنی نہ کی جائے تو دل میں دوسرے کے خلاف غصہ نہیں آتا اور جب غصہ نہیں آتا تو اس کے نتیجہ میں ظلم نہیں ہوتا۔اس لحاظ سے بجنات پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے دینی تعلیم دینا اور اس کا انتظام کرنا ان کا اولین فرض ہے باقی سب کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گئے۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحه 13) پس ہمارا فرض ہے کہ خود بھی عامل قرآن ہوں اور دوسروں کو بھی قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے کی تلقین کریں خود بھی قرآن پڑھیں اور دوسروں کو بھی پڑھا ئیں تا ہم سب کا عمل قرآن کی تعلیم کے مطابق ہو۔(ماہنامہ مصباح فروری 1979ء)