خطابات مریم (جلد دوم) — Page 199
خطابات مریم 199 خطابات بیخ کنی کریں اور ان کو اپنے معاشرہ میں پہنچنے نہ دیں۔ہم ایک غریب جماعت ہیں جس کی غرض تو حید الہی کی تعلیم دینا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو پھیلانا اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنا ہے۔اگر ہم نے رسومات کو نہ چھوڑا تو آہستہ آہستہ اسلام سے دور جا پڑیں گے اور رضائے الہی کے لئے قربانی دینے کی روح جاتی رہے گی۔جماعت احمدیہ کا قیام غلبہ اسلام کی خاطر ہوا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو قربانی دینی ہوگی۔قربانی اپنی خواہشات کی اپنے مال کی اپنی اولادوں کی اور خود اپنے نفس کی تا اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر سکیں اور اس کا قرب اور اس کا پیار حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کا واحد ذریعہ آنحضرت علی کی کامل اتباع کرنا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُوني (آل عمران: 32) ہر مرحلہ میں ہر قدم پر ہم نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی ہے۔کتنی ہیں ہم میں سے جو اس چیز کا خیال رکھتی ہیں ابھی تو ہماری بہت اصلاح ہونے والی ہے۔آپس میں نا اتفاقی ، تعاون نہ کرنا ، ہمدردی کی کمی ، بچوں کی صحیح تربیت نہ کرنا ، موجودہ مغربیت کی ظاہری جگمگاہٹ سے متاثر ہوتے ہوئے اسلامی احکام کی پرواہ نہ کرنا جن میں سے ایک ضروری حکم پردہ کا ہے۔ان سب باتوں کی اصلاح کیلئے ضروری ہے کہ ہمیں قرآن آتا ہو ہمارے بچوں کو قرآن آتا ہو۔دین سے محبت ہو دین پر چلنے کا شوق ہو۔دین کیلئے غیرت ہو۔اگر آج آپ خود قرآن نہیں پڑھیں گی تو آئندہ آپ کی نسل دین سے بالکل بے بہرہ ہوگی۔جس قدر زور اسلام نے اخلاقیات پر دیا ہے کسی مذہب نے نہیں دیا اور آج مسلمان اخلاقی لحاظ سے دوسری قوموں سے کم نظر آتے ہیں اس کی وجہ قرآن نہ پڑھنا ہے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اپنے رب کو پہچانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر صحیح ایمان کی توفیق پائی ہے۔ہمارا عمل دوسروں سے مختلف ہونا چاہئے۔ہمارے اخلاق قرآنی اخلاق کے مطابق ہونے چاہئیں۔ہمارا کردار قرآن کے بیان کردہ نمونہ کے مطابق ہونا چاہئے۔ہمارے دلوں میں انسانیت کی محبت اور ان کی اصلاح کی تڑپ ہونی چاہئے۔