خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 198 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 198

خطابات مریم 198 خطابات ملک اور براعظم میں پیدا ہو سکتی ہیں جو ہم سے آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث ہوسکتی ہیں اور عورتوں کی تربیت کی قیادت ان کے ہاتھ میں ہوسکتی ہے۔آج ان کی نگا ہیں آپ پر ہیں کہ یہ مرکز سلسلہ اور اس کے قریب رہنے والوں میں ہم نے ان کا نمونہ دیکھنا ہے اور جس کا نمونہ ان کو اسلام کے مطابق نظر نہیں آتا ان کے چہرے اُتر جاتے ہیں۔۔پس اصلاح کریں اپنی اپنے لئے اپنی نسلوں کیلئے دوسروں کیلئے تا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ سے زیادہ جذب کر سکیں۔دوسری چیز جو بالکل جماعت میں سے ختم ہو چکی تھی پھر جماعت کے بعض حصوں میں آ رہی ہے اور وہ ہے رسومات۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد يحي الدين و يقيم الشريعة ( تذكره صفحه 55 ) تھا۔یعنی اسلام کے باغ کو پھر سے تر و تازہ کرنا۔شریعت اسلامی کا قیام اور اس پر چلانا اور آپ کو ماننے کے نتیجہ میں آپ کے متبعین نے صحیح اسلام پر عمل کر دکھایا۔ہر طرح کا تکلف رسومات بدعات ، خلاف شریعت با توں کو انہوں نے اپنے گھروں سے جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دیا۔پھر حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید کے ذریعہ جماعت میں سادگی کی رو دوڑا دی۔لیکن کچھ عرصہ سے یہ شکار بیتیں آنے لگی ہیں که مختلف مواقع پر خواہ شادی کے ہوں یا اور قسم کی تقریبات وہ رسومات جن کو جماعت احمدیہ بالکل چھوڑ چکی تھی ان پر عمل ہونے لگا ہے۔رسم سادگی کی ضد ہے۔معاشرہ کو تباہ کرنے والی چیز ہے۔آہستہ آہستہ معمولی معمولی رسمیں بدعات کی شکل اختیار کر جاتی ہیں اور ان پر عمل کرنے والا گھرانہ اسلام سے دور جا پڑتا ہے۔اسلام سادگی سکھاتا ہے اسلام تکلیف و تکلف سے بچاتا ہے۔اسلام تو کل سکھاتا ہے۔اسلام کا بنیادی نکتہ تو حید ہے اور ایک موحد بیہودہ رسموں سے دور بھاگتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی شرائط بیعت میں چھٹی شرط یہ قرار دی تھی کہ :۔اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا“۔اشتہار تکمیل تبلیغ 12 جنوری 1889ء) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کے مطابق ہمارا فرض ہے کہ رسومات کی