خطابات مریم (جلد دوم) — Page 194
خطابات مریم 194 خطابات طوفان سے ہر منجدھار سے اللہ تعالیٰ کی نصرت اسے بچالے گئی اور آج سے تقریباً نوے سال پہلے جس جماعت کی ابتداء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کی گئی تھی آج اس کے افراد پاکستان کے کونے کونے میں ہیں۔بھارت میں ہیں ، انگلستان میں ہیں ) یورپ کے اکثر ممالک میں ہیں، مشرق قریب اور مشرق بعید کے ممالک میں ہیں، امریکہ، کینیڈا میں ہیں ، جزائر میں ہیں اور آج علی الاعلان ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ احمد بیت پر سورج غروب نہیں ہوتا۔ہمارا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کی ان بشارتوں کا جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیں۔ایک زندہ ثبوت ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔یہ کوئی میلہ نہیں عرس نہیں۔اسلام کی سربلندی کی خاطر اور جماعت کی تربیت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جلسہ ہونا قرار دیا تھا اور حضور علیہ السلام کی زندگی میں سب سے پہلے جلسہ میں پچھتر اشخاص نے شرکت کی تھی۔آج اسی جلسہ پر پونے دو لاکھ کے قریب لوگ شرکت کرتے ہیں۔الحمد للہ علی ذلک کیا کسی انسان میں طاقت ہے کہ وہ اپنی جانب سے یہ پیشگوئی کر دے کہ ایک وقت آئے گا جب تیری جماعت ملکوں میں پھیل جائے گی۔ایک انسان تو گل کی بات بھی نہیں کر سکتا لیکن یہ صرف خدا تعالیٰ کے فرستادہ ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ آئندہ کی پیشگوئیاں بتا تا ہے اور وہ کامل یقین کے ساتھ دنیا میں ان کا اعلان کرتے ہیں۔پس یہ جلسہ سالا نہ ہمارے لئے ایمانوں کو بڑھانے اور ان میں تازگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہونا چاہئے مجھے افسوس ہوتا ہے اپنی بعض عورتوں اور بچیوں پر جو دور دور سے سردی کی تکلیف اُٹھا کر آتی ہیں یہاں بھی وہ آرام نہیں مل سکتا جو گھروں میں ملتا ہے لیکن یہاں آ کر اپنا وقت ضائع کرتی ہیں ان کا آنا ان کی محبت کی دلیل ہے ان کی قربانی کی دلیل ہے لیکن تربیت کی کمی کی وجہ سے وہ پورا فائدہ نہیں اُٹھا تیں۔پس میری عزیز بہنو اور بچیو! جلسہ سالانہ ایک بہت بڑی نعمت ہے اور برکت ہے۔خدائی بشارتوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے جاری فرمایا اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی برکتیں اور فائدے بیان فرمائے ہیں۔میرے دل میں کئی دفعہ خیال آتا ہے کہ اگر جلسہ سالانہ نہ ہوا کرتا تو بہت سی باتوں سے ہم محروم رہتے۔ایک دوسرے سے تعارف نہ ہوتا واقفیت نہ ہوتی۔اخوت کا جذبہ نہ پیدا ہوتا۔تنظیمی صلاحیتیں نہ اُبھر تیں اور نہ اتنی دور دور سے