خطابات مریم (جلد دوم) — Page 193
خطابات مریم 193 خطابات 66 رو بناؤں گا کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ خداذ والعجائب ہے۔” خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مراد میں تجھے دے گا“۔( تذکره صفحه 148) میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا“۔( تذکره صفحه 81) دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا“۔( تذکرہ صفحہ 81) "I SHALL GIVE YOU A LARGE PARTY OF ISLAM" (تذکره صفحه 80) غرضیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارتیں دی گئیں اور اُس وقت دی گئیں جب کہ اپنے گھر میں بھی آپ کا کوئی مقام نہ تھا۔گمنامی کی زندگی آپ بسر کر رہے تھے بہت کم لوگ آپ کو جانتے تھے۔آپ نے مامور بیت کا دعویٰ کیا تو دوست دشمن ہو گئے اپنے بیگانے ہو گئے۔ہر طرف سے اعتراضات کا نشانہ آپ کو بنایا گیا۔لوگ ہنتے تھے کہ اس شخص کے پاس نہ مال ہے نہ دولت نہ ظاہری دنیاوی ڈگریاں۔مخالف یہ دعوی کرتے تھے کہ چند روز کی بات ہے یہ جماعت اور سلسلہ ختم ہو جائے گا لیکن قادر خدا کے منہ کی نکلی ہوئی باتیں ٹلا نہیں کرتیں۔یہ الہی سنت ہے کہ لا مُبَدِّلَ لِكَلِماتِ الله - خدا تعالیٰ جو کہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو اس کے برگزیدہ بندے دوسروں کے مقابلہ میں ممتاز کس طرح ہوں۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کی مدد اور حالات میں ان کی کامیابی سے ہی تو پتہ لگتا ہے کہ خدا کی مددکس کے ساتھ ہے۔احمدیت کی ساری تاریخ اس بات پر گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا سایہ اور اس کے فضل کا ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے سر پر رہا۔مشکلات آئیں ، مصائب کی آندھیاں چلیں۔ایسے ایسے طوفان آئے کہ احمدیت کی کشتی دشمنوں کو ڈولتی نظر آئی لیکن ہر