خطابات مریم (جلد دوم) — Page 183
خطابات مریم 183 خطابات میں اور دوسروں میں فرق ہونا چاہئے۔آپ کا فرض ہے کہ قرآن پڑھیں اور قرآن پڑھائیں۔ایک احمدی عورت بھی جاہل نہیں ہونی چاہئے۔ایک احمدی عورت بھی ایسی نہیں ہونی چاہئے جسے قرآن نہ آتا ہو جسے قرآن کا مطلب نہ آتا ہو۔اس لئے میں خاص طور پر دیہات کی خواتین سے کہتی ہوں کہ وہ اُردو لکھنے پڑھنے اور قرآن پڑھنے پڑھانے کا خاص انتظام کریں اور ایسی کوشش کریں کہ آئندہ چند سال میں کوئی عورت نا خواندہ نہ رہے اور یہی سب سے بڑا کام دیہات کی لجنات کا ہے۔عادات کی ظلمت کو بھی دور کرنا چاہئے۔کوئی عادت انسان میں ایسی نہ ہونی چاہئے جو چھوڑی نہ جاسکے۔بُری سے بُری عادت بھی ایمان کی شمع دل میں منور ہونے سے چھوڑی جاسکتی ہے۔اسلام کی تاریخ میں اس کی کتنی مثالیں موجود ہیں۔مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک آواز پر بڑے بڑے شراب پینے والوں نے یک لخت شراب چھوڑ دی یہاں تک کہ روایات میں آتا ہے کہ لوگوں نے اپنے مکے توڑ دیئے اور شراب مدینہ کی گلیوں میں بہتی پھرتی تھی۔اسی لئے قرآن مجید میں مومنوں کی بنیادی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ لغویات سے پر ہیز کرتے ہیں۔ان چیزوں سے بچتے ہیں جو انہیں یا دالہی سے غافل کرتی ہیں۔اسی طرح رسوم کی زنجیریں ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان زنجیروں کو جو لوگوں کی گردنوں میں پڑی تھیں ان سے ان کو آزاد کرنے آئے تھے لیکن افسوس آتا ہے ان خاندانوں پر اور ان خواتین پر جو احمدیت سے وابستہ ہوتے ہوئے بھی رسومات کو چھوڑ نہیں پاتیں۔پہلے صرف دیہات میں رسومات کا زیادہ زور تھا اب کچھ عرصہ سے شہروں سے کثرت سے شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔ایک احمدی کی زندگی خواہ مرد ہو یا عورت سادہ اور بے تکلف زندگی ہونی چاہئے۔یہی احمدیت کی غرض ہے اور یہی تحریک جدید کی غرض و غایت ہے۔رسومات سے جہاں ہماری معاشرتی زندگی میں روز بروز اُلجھنیں پیدا ہورہی ہیں وہاں ہماری اقتصادی زندگی پر بھی یہ اثر انداز ہو رہی ہیں اور وہ اخوت اور محبت کا جذ بہ جو بھائی بھائی اور بہن بہن میں ہونا چاہئے وہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔کہیں شادیوں پر زیادہ جہیز کا مطالبہ یا جہیز میں خاص خاص چیزوں کا مطالبہ کہیں سسرال والوں کو جوڑے یا زیور نہ دینے پر آنے والی دلہن سے بُر اسلوک