خطابات مریم (جلد دوم) — Page 166
خطابات مریم 166 خطابات شامل ہونے کا شوق اپنی اولاد میں پیدا کریں تا احمدیت کی ہر نسل اپنی پہلی نسل سے بڑھ کر اسلام واحمدیت کیلئے قربانیاں پیش کرتی چلی جائے اور وہ دن جلد آئے جب اسلام تمام ادیان پر غالب ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی غرض تھی۔بہت بڑی ضرورت ہے جماعت کی خواتین کی تربیت کی اور نئی نسل کے دلوں کو علم دین سے منور کرنے کی۔مجھے اپنی بہنوں اور بچیوں سے بہت محبت ہے اس لئے اگر کسی میں احمدیت کی روایات کے خلاف کوئی بات نظر آئے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔پھر بحیثیت صدر لجنہ اماءاللہ میرے لئے بہت ہی خوف کا مقام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق که كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ( بخاری کتاب الجمعہ ) کہ تم میں سے ہر شخص ایک چرواہے کی حیثیت رکھتا ہے جس سے اس کے ریوڑ کے متعلق سوال کیا جائے گا۔اپنی کمزوریوں اور وقت پر اپنی بچیوں بہنوں کو برائیوں سے آگاہ نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ نہ ہونا پڑے۔میری عزیز بہنو اور بچیو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔آپ نہ آتے تو اس دنیا سے ہم اندھے ہی جاتے۔یعنی روحانی طور پر اند ھے۔آپ نے ہمیں حقیقی خدا کا پتہ دیا۔اس سے ملنے کا طریق بتایا۔اس طریق پر خود چل کر دکھایا۔ہدایت کی را ہیں ہمارے لئے کھولیں لیکن دنیا نے ان حسین راستوں پر اتنا گردوغبار لا ڈالا کہ وہ راستے آنکھ سے اوجھل ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔آپ نے ہمارے دلوں میں ہمارے آقا رحمتہ للعالمین کی محبت پیدا کی۔اسلام کا صحیح اور حسین چہرہ دکھایا۔ہمیں قرآن مجید پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی اور آپ کے ذریعہ وہ بابرکت نظام خلافت جاری ہوا جس کے ذریعہ اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔حضرت خلیفۃ اصبح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے کی طرف بہت توجہ دلا رہے ہیں اور آپ سے پہلے خلفاء کے ذریعہ بھی جماعت میں قرآن مجید کی تعلیم کا بہت چرچا رہا ہے لیکن لڑکیوں کے متعلق مجھے افسوس کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے کہ چند سال سے قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے کی طرف ان کی توجہ کم ہو رہی ہے اور اس کے بالمقابل دنیوی تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ بڑھ رہی ہے۔