خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 164 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 164

خطابات مریم 164 خطابات اور بے تکلف بہن تھیں۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی پھوپھی جان اور ساس تھیں اور خود ان کے لئے بھی قابل عزت اور قابل احترام۔اتنے قریبی رشتوں بے تکلف رشتوں کے با وجود مقام خلافت کا آپ کے دل میں بے حد ادب اور احترام تھا۔یہ شعر آپ پر پوری طرح صادق آتا تھا۔ب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں اگر کسی کی بات سے ان کو ذرا بھی احساس ہوتا کہ اس کی بات کرنے کا طریق ایسا ہے جو مقام ادب کے خلاف ہے تو آپ سرزنش فرما دیتیں کہ یہ طریق ٹھیک نہیں ہے۔اعتراض کرنے کی عادت کو آپ نے ہمیشہ نا پسند فرمایا اور اپنی تقریروں اور مضامین میں اس امر پر زور دیا۔1961ء کے لجنہ کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر آپ نے جو تقریر فرمائی تھی اس کا ایک اقتباس پیش کرتی ہوں جس میں آپ نے خواتین کو زبان سے بے احتیاطی کے کلمات نکالنے اور اعتراضات کرنے سے منع کیا تھا۔آپ نے نصیحت کی تھی کہ :۔” مجھے چند باتیں آپ سے اور بھی اس موقعہ پر کہنی ہیں ذرا غور سے سنیئے۔سبھی جانتے ہیں کہ حسد، بدگمانی ، زبان کی بے احتیاطی اور اعتراض ایسی بدخصلتیں ہیں جن کا زہر دور دور پھیل کر دوسروں کو بھی خراب کرتا ہے اور جس میں یہ مرض جڑ پکڑ جائے اس کیلئے تو ہے ہی تباہ گن۔غرض جب معمولی زندگی یعنی خاندانی برادری اور محلہ داری کے تعلقات میں یہ باتیں گھروں کا امن اُٹھا کر ان کو اُجاڑ سکتی ہیں۔دلوں کو پھاڑ سکتی ہیں تو آپ سوچیں اور غور کریں کہ قومی، دینی ، روحانی تعلقات اور نظام سلسلہ کے معاملات میں اس صورت کی دریدہ دہنی کا نتیجہ کس قدر خطرناک نہ ہوگا؟ مجھے افسوس ہے کہ با وجو دسید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے اپنی طبیعت کے خلاف سالہا سال کے صبر کے بعد محض جماعت کی آئندہ بہبود کی خاطر اس پکے پھوڑے کو مجبور ہو کر نشتر دے کر مواد صاف کرنے کے اب تک یہ مرض ناحق بد گمانی بے وجہ عادتاً اعتراض کا ہماری جماعت کے بعض افراد میں نظر آرہا ہے اور انہوں نے اب تک سبق حاصل نہیں کیا۔مجھے بھی کسی نہ کسی طرح کبھی کبھی خبر ایسی پہنچ جاتی ہے اور سخت صدمہ کا موجب ہوتی ہے۔اپنی