خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 163 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 163

خطابات مریم 163 خطابات آپ الَیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدُہ کے مفہوم اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے والی بڑی ہی بے نفس اور مردوزن کیلئے ایک نمونہ تھیں اور وو ہر احمدی مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اس نمونہ کی پیروی کرے اور بے لوث رنگ میں الہی احکام کی بجا آوری کی طرف توجہ کرے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم کی سیرت و کردار میں تین باتیں بہت نمایاں نظر آتی ہیں۔انسانی زندگی کا حقیقی مقصد اللہ تعالیٰ کا سچا عبد بننا ہے حضرت نواب مبارکہ بیگم کی زندگی میں یہ پہلو بہت نمایاں ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت یعنی نماز میں غیر معمولی شغف اور انہماک آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔بہت توجہ اور خشوع و خضوع سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں دل لگا کر عبادت کرنا آپ کی عادت تھا۔صرف یہ نہیں کہ کبھی لمبی نماز پڑھ لی ، کبھی بے پروائی کر لی۔جس نے بھی آپ کی سیرت کا گہرا مطالعہ کیا یہ اعلیٰ وصف اس کو آپ میں نظر آیا۔یہاں تک کہ جب آپ بہت زیادہ بیمار ہو گئیں اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھنے کے قابل نہ رہیں تو لیٹے لیٹے ہی اتنی لمبی نماز پڑہتیں کہ بسا اوقات ضعف ہو جایا کرتا تھا۔آپ کی سیرت کا دوسرا نمایاں پہلو جماعت کیلئے کثرت سے دعائیں کرنا تھا۔اسلام کا خلاصہ ہی دو باتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی ، بے شک خدا تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بہت سے طریق اور ذرائع ہیں لیکن سب سے بڑا ذریعہ ان کے حقوق کی ادائیگی اور خیر خواہی کا ان کے لئے دعا کرنا ہے۔اپنے عزیزوں رشتہ داروں ، مبلغین ، کارکنوں ، واقفوں ، جو خطوط دعا کے لئے لکھتے تھے ان کیلئے بھی جو نہیں لکھ سکتے تھے ان کے لئے بھی دعائیں کیا کرتی تھیں۔لکھنے والے جب مقصد حل ہو جاتا جس غرض کے لئے دعا کی درخواست کی ہوتی پوری ہو جاتی۔ان کا لکھنا بھی کئی دفعہ بھول جاتے لیکن وہ اسی توجہ اور یا د سے ان کے لئے دعا کر رہی ہوتی تھیں۔تیسرا امر جو ان کی زندگی کا ایک روشن پہلو ہے وہ آپ میں خلافت سے انتہائی احترام و عقیدت کا جذبہ تھا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پایا۔آپ سے فیض حاصل کیا۔حضرت خلیفہ اول کی شفقت دیکھی آپ سے علم حاصل کیا۔حضرت مصلح موعود کی نہایت پیاری