خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 135 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 135

خطابات مریم 135 خطابات ان ذمہ داریوں کو کماحقہ اُٹھانے کیلئے تیار کر دیں جن کا تقاضا آنے والے دن کر رہے ہیں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔۔۔علم کے بعد دوسرا قدم اصلاح کا عمل ہوتا ہے۔اگر کسی بیماری میں طبیب آپ کے لئے نسخہ تو صحیح تجویز کر دے لیکن آپ اپنی سستی سے وہ نسخہ استعمال نہ کریں تو بیماری کو آرام نہیں آئے گا۔یہی حال روحانی بیماریوں کا ہوتا ہے۔آپ کو علم بھی ہو کہ ترقی کیسے ہوگی لیکن عمل نہ کریں تو آپ ترقی نہیں کر سکتیں۔پس دینی علوم سیکھ کر قرآن مجید پڑھ کر اُن پر عمل کرنا اپنی زندگیاں قرآن مجید اور اُسوۂ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزارنے سے دینی اور دنیاوی ترقیات کا حصول ممکن ہے۔ہر وقت جائزہ لیتی رہیں کہ کیا آپ کا کردار قرآنی تعلیم کے مطابق ہے کیا آپ کے اخلاق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی جھلک نظر آتی ہے۔کیا ہماری پیشانیوں سے نور ایمان جھلکتا ہے کیا ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق محبت ہے کہ :۔قُل إن كان اباؤُكُمْ وَابنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَازْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وامْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَ تِجَارَةً تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِن تَرْضَوْنَهَا احب اليْكُم مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ في سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بأَمْرِهِ وَاللهُ لا يَهْدِى الْقَوْمُ الفُسِقِينَ (التوبة:24) تو مومنوں سے کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دوسرے ) رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارتیں جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکان جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے کی نسبت زیادہ پیارے ہیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلہ کو ظاہر کر دے اور اللہ اطاعت سے نکلنے والی قوم کو کبھی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔اتنی محبت کہ ہم اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے قربان کر دینے کیلئے تیار ہیں۔اگر یہ کیفیت ہمارے دلوں کی ہے اور یقیناً ہونی چاہئے تو ہمارا عمل بھی صحیح عمل ہوگا جس کے نتیجہ میں کامیابی ہمارے لئے مقدر ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض ایک