خطابات مریم (جلد دوم) — Page 129
خطابات مریم 129 خطابات خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم قرار پاتے ہیں کہ کیوں نہیں سمجھایا کہ نصیحت کر کے اپنا فرض ادا کیا۔اپنی اگلی نسل کو آگ سے بچانا جو دنیا میں مادیت پرستی کی شکل میں دنیا کے ہر ملک میں بھڑک رہی ہے۔آپ کا فرض ہے کہ بچپن سے ان کے دل میں ڈالیں کہ دنیا تمہارا مقصد نہیں۔دین کو تم نے دنیا پر مقدم کرنا ہے۔دنیا کی محبت کو اپنے اور ان کے دلوں میں سرد کرنا آپ کا کام ہے جب آپ اپنے دنیاوی مشاغل پر دینی مصروفیتوں ، دینی مجالس، دینی صحبتوں کو ترجیح دیں گی اور بچوں کو بھی دینی کاموں کی طرف متوجہ کریں گی تو خود بخود دین کی محبت ان کے دلوں میں پیدا ہوگی اور دین کا پہلو غالب آتا جائے گا۔اے میری بچیو! اور آئندہ کی ماؤں ! دراصل آج کی تقریر کی مخاطب میری آپ ہیں۔اگلی صدی میں اسلام کے دامن میں پناہ لینے والوں کی تربیت آپ نے کرنی ہے۔ہاں آپ نے ، آپ میں سے ہر بچی جو آج جلسہ میں موجود ہے وہ اپنی عمر میں تیرہ سال جمع کرے۔ناصرات کی عمر آٹھ سال سے شروع ہوتی ہے۔ناصرات کی جو سب سے چھوٹی بچی ہے وہ بھی انشاء اللہ العزیز صد سالہ جوبلی میں اکیس سال کی ہوگی اور یہی عمر کا م کی ہوگی۔انہوں نے ہی اس جلسہ کا انتظام سنبھالنا ہوگا جو احمدیت کی تاریخ میں ایک عظیم الشان جلسہ اور سنگ میل کی حیثیت رکھے گا۔اُنہوں نے ہی سب ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔انہوں نے ہی اگلی نسل کی تربیت کرنی ہوگی۔پس اگر آج اور ابھی سے آپ میں یہ احساس پیدا نہ ہوگا کہ تیرہ سال کے بعد ہمارے ذمہ ان خواتین کو دین سکھانے کا کام سپرد ہو گا جو فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گی تو تیرہ سال کے بعد آپ کچھ نہیں کر سکتیں اور پھر یہ کہ آپ نے ان کو جو تعلیم دینی اور تربیت کرنی ہے اس کی شکل نہ بدلے۔قرآن سکھانا ہے اور جس اسلامی تہذیب ، اخلاق اور تمدن کی بنیاد چودہ سو سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور جو معاشرہ قرآن وسنت کی بنیادوں پر قائم ہوا تھا وہی معاشرہ پھر سے قائم کرنا ہے۔مغربی تہذیب کی چکا چوند سے آپ کی آنکھیں خیرہ نہ ہوں۔ان کو اپنے سے بڑھ کر سمجھنے کا تصور بھی نہ کریں۔جب حضرت مصلح موعود 1924ء میں انگلستان اور یورپ اعلائے کلمۃ اللہ کیلئے تشریف لے گئے تو آپ کو سب سے بڑی فکر یہی تھی کہ ایسا نہ ہو یورپ کے لوگ مسلمان تو ہوں لیکن