خطابات مریم (جلد دوم) — Page 125
خطابات مریم 125 خطابات تعداد دور دراز کا سفر کر کے مرکز سلسلہ میں آج موجود ہے کیا یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان نہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ان مردہ روحوں نے واحد خدا کو پہچانا۔محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر انہیں ایمان نصیب ہوا۔اسلام کی صداقت ان پر کھلی ، قرآن مجید کے معارف سے ان کے ذہن اور دل منور ہوئے وہ جان گئے کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے۔ایک ابدی صداقت ہے اور اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور دنیا کی ہر اُلجھن اور مشکل کا حل صرف اور صرف اسلام میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کا حقیقی حسن دنیا کے سامنے پیش کیا۔اس پر جو گرد پڑی ہوئی تھی اُسے دور کیا جو خوبیاں اس کی پوشیدہ ہو چکی تھیں ان کو دنیا کے سامنے اُجا گر کیا اور وہی مسلمان جو اپنے کو مسلمان کہتے شرماتے تھے اور اسلام کی ترقی سے مایوس تھے پُرامید ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعتقادی غلطیوں کو بھی دور کیا اور عملی غلطیوں کی بھی اصلاح فرمائی غرضیکہ اسلام پر جو اندرونی اور بیرونی دونوں طرف سے حملے ہورہے تھے ان کا پہلے دفاع کیا اور پھر جارحانہ طور پر غیر مذاہب پر ان کی خامیاں ظاہر کرتے ہوئے دعوی فرمایا کہ دنیا میں ایک ہی مذہب زندہ اور عالمگیر مذہب ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے اور وہ اسلام ہے اور غلبہ اسلام کیلئے ہی آپ کی بعثت ہوئی ہے۔احمدیت کی تاریخ کا ہر دن اس بات پر گواہ ہے کہ جو وعدے اللہ تعالیٰ نے مہدی موعود سے کئے تھے ان میں سے بہت سے پورے ہو چکے ہیں۔جو پورے ہو چکے ہیں ان کی طرف دیکھتے ہوئے ہمیں پورا ایمان اور یقین ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلی ہوئی ایک ایک بات پوری ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بشارت دی تھی کہ :۔ا بھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخمریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو