خطابات مریم (جلد دوم) — Page 124
خطابات مریم 124 خطابات تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں“۔(روحانی خزائن جلد 20۔تذکرۃ الشہادتین صفحہ 4،3) یہ حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ جب دنیا انسانیت کے کامل نجات دہندہ کی بعثت پر لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد خالق حقیقی کو بھول گئی۔قرآن پر عمل نہ رہا، اعتقادی اور عملی ہر دو قسم کی غلطیاں ان میں پیدا ہوگئیں تو وعدہ الہی اور مخبر صادق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ہوئی تا کہ آپ دنیا کو پھر تو حید پر قائم کریں۔اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق قائم کریں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی صداقت کو دنیا پر روز روشن کی طرح ثابت کر دیں تا دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجات دہندہ تسلیم کرتے ہوئے آپ کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھ لے۔اس مقصد کو لے کر جب آپ کھڑے ہوئے تو آپ کے خلاف ایک شور اُٹھا۔عیسائیت کو تثلیث کا بت ٹوٹتا نظر آیا تو انہوں نے پوری طاقت سے آپ کا مقابلہ کرنا شروع کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ وفات مسیح کے مسئلہ میں آپ کے پاس ایک ایسا ہتھیار ہے جس کی موجودگی میں وہ الوہیت مسیح کو دنیا کے سامنے ثابت نہیں کر سکتے۔نہ صرف عیسائیوں کی طرف سے شدید مخالفت ہوئی بلکہ ہندوستان میں تمام مذاہب کی طرف سے مخالفت کا آغاز ہو گیا۔کیا اپنے ، کیا پرائے سب ہی مخالف ہو گئے۔لیکن حضرت مہدی موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ بڑے زور آور حملوں سے آپ کی مدد کرے گا۔آپ کو کامیابی کی بشارتیں دی تھیں۔چنانچہ ان وعدوں اور بشارتوں کو پورا ہو تے آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ایک اکیلی آواز قادیان کی گمنام بستی سے اُٹھی لیکن آج اس آواز کی گونج آپ کو امریکہ کے دور دراز براعظم سے بھی سنائی دے رہی ہے۔افریقہ سے بھی ، جزائر سے بھی ، یورپ اور انگلستان سے بھی وہی علاقے جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اب وہاں عیسائیت کا غلبہ ہوگا آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں کی تعداد میں عیسائیت کو چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں اور رات دن محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور ان میں سے بطور نمائندہ ایک خاص۔